1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جو جتنی جلدی واپس جائے گا، مراعات بھی اتنی زیادہ ملیں گی‘

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کی نئی سربراہ یُوٹا کورٹ کو توقع ہے کہ رواں برس جرمنی سے رضاکارانہ طور پر اپنے وطنوں کی جانب لوٹنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق  یُوٹا کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وفاقی جرمن حکومت نے رضاکارانہ وطن واپس جانے والوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے رواں برس چالیس ملین یورو کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

 جرمن اخبار ’فرینکفرٹر آلگمائنے سائٹُنگ‘ سے کی گئی اپنی ایک گفت گو میں انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی سے آبائی وطنوں کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں اس برس ’’نمایاں طور پر اضافہ ہو گا۔‘‘  یُوٹا کورٹ نے بتایا کہ فروری کے مہینے سے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) جرمنی سے پناہ گزینوں کی ملک بدری میں بتدریج اضافہ کرے گا۔

مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی اور انہیں فراہم کی جانے والے مراعات کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کورٹ نے کہا کہ جب پناہ گزینوں کو معلوم ہو جائے کہ انہیں جرمنی میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو وہ سیاسی پناہ کی درخواست پر فیصلہ ہونے سے پہلے ہی اپنی رضاکارانہ وطن واپسی کے بارے میں بی اے ایم ایف کو مطلع کر سکتے ہیں۔ مراعات کے بارے میں انہوں نے کہا، ’’تارک وطن جتنی جلدی رضاکارانہ طور پر جرمنی سے واپس اپنے وطن جانے کا فیصلہ کرے گا، اسے مراعات بھی اتنی ہی زیادہ فراہم کی جائیں گی۔‘‘

2016ء کے دوران بی اے ایم ایف نے سیاسی پناہ کی قریب سات لاکھ درخواستوں پر ابتدائی فیصلے کیے تھے جن میں سے قریب ساٹھ فیصد کو جرمنی میں عارضی پناہ دے دی گئی تھی جب کہ باقی درخواستیں رد کر دی گئی تھیں۔ پچھلے برس قریب پچپن ہزار تارکین وطن اپنی مرضی سے اپنے اپنے وطنوں کی جانب واپس چلے گئے تھے۔

 بی اے ایم ایف کی سربراہ کے طور پر تعیناتی کے بعد یُوٹا کورٹ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس برس موسم بہار کے اختتام تک بی اے ایم ایف باقی ماندہ درخواستیں بھی نمٹا دے گا۔ 2016ء کے دوران قریب دس ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے۔ ان میں سے محض 353 افراد یا 3.5 فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ باقی تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں 

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

Audios and videos on the topic