1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری ہتھیار بنانے پر غور ضرور کیا تھا، سابق ایرانی صدر

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ 1980ء کی دہائی میں جوہری پروگرام شروع کرنے کے ساتھ ہی تہران حکومت نے ایٹم بم بنانے پر غور کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایران اور عراق کے مابین جنگ ہو رہی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سابق ایرانی سربراہ مملکت علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ تہران حکام نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے بارے میں سوچا ضرور تھا لیکن اس ارادے پر کبھی بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ایرانی جریدے ’نیوکلیئر ہوپ‘ یا ’جوہری امید‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رفسنجانی کا مزید کہنا تھا، ’’جوہری پروگرام جب شروع کیا گیا تو اس وقت ہم جنگ میں مصروف تھے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ شاید دشمن ہمارے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرے۔ ایٹم بم بنانا صرف ایک سوچ تھی اور یہ کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکی۔‘‘

1980ء کی دہائی میں ایران اور عراق کے مابین تباہ کن جنگ آٹھ سال تک جاری رہی تھی۔ اس دوران صدام دور کے عراق کے پاس جوہری ٹیکنالوجی موجود تھی۔ جنگ کے دوران صدام نے کبھی بھی کوئی جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیا تھا تاہم عراق کی جانب سے کیمیائی ہتھیار ضرور استعمال کیے گئے تھے۔

Schwerwasserreaktor Arak

بنیادی طور پر ہمیشہ سے ہمارا اصول پر امن جوہری ٹیکنالوجی کا حصول تھا، رفسنجانی

اس جنگ کے دوران رفسنجانی ایرانی پارلیمان کے اسپیکر تھے اور جنگ کے اختتام کے کچھ ہی عرصے بعد وہ منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے۔ ’’بنیادی طور پر ہمیشہ سے ہمارا اصول پر امن جوہری ٹیکنالوجی کا حصول تھا۔ لیکن اس دوران یہ بات بھی ہمارے ذہنوں میں تھی کہ اگر ہمیں کسی دن دھمکایا گیا اور ہمارے لیے ضروری ہوا، تو ہم بھی اس راستے پر چل پڑیں گے۔‘‘

اس دوران رفسنجانی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے دورے کے موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ ڈاکٹر قدیر کو پاکستانی جوہری پروگرام کا خالق کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر قدیر 2004ء میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے اب تک سب سے بڑے اسیکنڈل میں ملوث تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے خفیہ جوہری راز ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو فروخت کیے تھے۔