1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری ہتھیاروں میں کمی کریں گے، باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے تباہ کن ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے اپنی سنجیدگی کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور ان کے استعمال کی نوعیت میں کمی کا عندیہ بھی دیا۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

جوہری عدم پھیلاؤ پر مبنی معاہدے NPT کے قیام کی 40ویں سالگرہ جمعہ کو منائی گئی۔ اس موقع پر امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ NPT جوہری عدم پھیلاؤ کےلئے عالمی برادری کی کوششوں کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا ن ہتھیاروں کی مجموعی صورتحال پر واشنگٹن انتظامیہ کا جائزہ

Iran Atom Präsident Mahmud Ahmadinedschad

ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے، ایران کا مؤقف

جلد مکمل ہو جائے گا، جو سرد جنگ کی دقیانوسی سوچ کو بہت پیچھے چھوڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جائزہ امریکہ کی قومی سلامتی کی پالیسی میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور ان کے استعمال کی نوعیت بھی کم کر دے گا۔

امریکی حکام قبل ازیں اسی ہفتے اوباما انتظامیہ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں میں ڈرامائی کمی کئے جانے کے منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمی جوہری ہتھیاروں کے مجموعی جائزے کے تناظر میں کی جائے گی جبکہ یہ جائزہ رواں ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا۔

دُنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا خیال اوباما نے گزشتہ برس چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں ایک تقریر کے دوران پیش کیا۔ تاہم اس وقت انہوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یہ مقصد شاید وہ اپنی زندگی میں پورا ہوتا ہوا نہ دیکھ سکیں۔

اس مرتبہ اپنے تازہ بیان میں بھی باراک اوباما نے کہا کہ 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگی اور دُنیا کو

Greenpeace-Protest

جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ اہم ہے، اوباما

ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے امریکہ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔

باراک اوباما آئندہ ماہ واشنگٹن میں نیوکلیئر سیکیورٹی کے موضوع پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد کرا رہے ہیں۔ ان کی انتظامیہ روس کے ساتھ بھی ایک نئے معاہدے پر مذاکرات کر رہی ہے۔ اوباما کا کہنا ہے کہ ماسکو حکومت کے ساتھ نئے معاہدے سے بھی جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔

خیال رہے کہ امریکہ کسی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے والا واحد ملک ہے اور ابھی تک جوہری ہتھیاروں کا وسیع تر ذخیرہ بنائے ہوئے ہے، جو ضرورت پڑنے پر استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن انتظامیہ ایران اور شمالی کوریا کے جوہری منصوبوں کے حوالے سے بھی سفارتی کوششوں میں سرگرم ہے۔ تاہم یہ کوششیں سست روی کا شکار ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کا مؤقف ہے کہ پیانگ یانگ اور تہران حکومتیں ان منصوبوں کے ذریعے جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ واضح رہے کہ ایران NPT پر دستخط بھی کر چکا ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا 2003ء میں امریکہ کے ساتھ تنازعے کے باعث اس معاہدے سے نکل گیا تھا۔ وہ تب سے دو جوہری بموں کا تجربہ کر چکا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM