1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری ہتھیاروں سے متعلق امریکی پالیسی پر ردعمل

صدر باراک اوباما نے گرچہ ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد اور اس کے استعمال میں کمی کی بات تو کی ہے تاہم پیش کردہ نئی ’اٹامک ویپنز ڈاکٹرین‘ میں انہوں نے ایک واضح دفاعی پالیسی نہیں پیش کی۔

default

امریکی صدر کی جوہری ہتھیاروں سے متعلق اس نئی حکمت عملی پران کے حامی اور مخالفین دونوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

دائیں اور بائیں بازو دونوں ہی کی طرف کے ناقدین کی طرف سے زیادہ شدید ردعمل سامنے نہیں، وجہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق امریکہ کی نئی حکمت پرمشتمل مسودے میں ایسے نکات کم ہی ہیں جن کو تنقید یا حملے کا نشانہ بنایا جا سکے۔ اوباما انتظامیہ کی نئی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تعداد اوراستعمال میں کمی لائی جائے گی۔

امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کے مطابق ’امریکہ کسی ایسے ملک کے خلاف جوہری ہتھیاراستعمال نہیں کرے گا نہ ہی اس کی دھمکی دے گا، جن کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ نہ ہی ایسے ممالک کو امریکہ کے جوہری ہتھیاروں سے ڈرنا چاہیے جو این پی ٹی پردستخط کر چکے ہیں اور جوہری ہتھیاروں کےعدم پھیلاؤ معاہدے کی پابندی کر رہے ہیں۔ تاہم رابرٹ گیٹس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اگر کسی بھی ملک نے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے روایتی فوجی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

USA Hillary Clinton Atomwaffenkonzept

اوباما انتظامیہ کی نئی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور استعمال میں کمی لائی جائے گی

اس ضمن رابرٹ گیٹس کا اہم ترین بیان یہ تھا کہ’ امریکہ اپنے مؤقف میں رد وبدل کا حق محفوظ رکھتا ہے‘۔ اس اگرمگر کے رویے کو امریکہ کے ریپبلکن حلقوں میں بھی ایک مبہم پالیسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے ایک سیاسی مشیرالکس کستالانو کے بقول"اوباما خود متزلزل ہیں۔ انہیں خود پتہ نہں کہ صحیح کیا ہے اور وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔"

اسی قسم کے خیالات کا اظہار گزشتہ صدارتی انتخاب کے ریپبلکن امیدوار’روڈی گیولانی‘ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی غیر واضح ہے۔ گیولانی نے خاص طور سے نئی حکمت عملی میں شامل شمالی کوریا اورایران کے جوہری پروگرام کے ضمن میں امریکی پالیسی کو غیر مؤثر اور مبہم قرار دیا ہے۔ ان دستاویزات کے تحت امریکہ شمالی کوریا اور ایران کے جوہری پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کرے گا۔ ریپبلکنز کا ماننا ہے کہ ڈیمو کریٹ لیڈر اور موجودہ امریکی صدر اوباما ایران کو یہ پیغام دینے میں ناکام رہے ہیں کہ تہران کے ایٹم بم بنانے کی کوششوں کے نتیجے میں اُسے فوجی اثرات کا سامنا کرنا ہوگا۔

دوسری جانب امریکہ کے چند ڈیموکریٹ لیڈروں اور بائیں بازو کے لوبیسٹ گروپس دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لئے ایک زیادہ موثر امریکی حکمت عملی کی امید کر رہے تھے، تاہم وہ اس نئے مسودے کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کر رہے ہیں۔

Symbolbild Atomwaffen Verhandlungen USA Russland

ریپبلکن امیدوار’روڈی گیولانی‘ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی غیر واضح ہے

امریکہ کی تخفیف اسلحہ اور عالمی امن کے لئے سرگرم ایک معروف ادارے کے ڈائریکٹر Joseph Cirincione اوباما انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کو مثبت تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں کے بقول "امریکہ نے پہلی بار جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک واضح منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ ایک تاریخی اوراہم لمحات ہیں۔"

دریں اثناء ایران کی طرف سے امریکہ کی ايسی حکمت عملی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے صدراوباما کو جارج بُش کے نقش قدم پر چلنے سے خبردار کیا ہے۔ احمدی نژاد نے کے بقول ’اگر باراک اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کے ضمن میں وہی رویہ اختیار کیا جو جارج بُش نے کیا تھا تو ایرانی عوام کا جواب بھی اتنا ہی سخت ہوگا جتنا ُبش کے وقت میں تھا‘۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت : افسر اعوان