1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری ڈیل کے بعد ایران عالمی اسٹیج پر قدم جماتا ہوا

رواں برس ایران کی عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری ڈیل کے بعد سے اُسے شامی تنازعے کے حل کے لیے اہم خیال کیا جانے لگا ہے۔

شام کا مسلح تنازعہ اِس وقت عسکری دلدل میں دھنسا ہوا لگتا ہے۔ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شامی ٹھکانوں کو امریکا اور اُس کے اتحادی فضائی حملوں میں نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ اسی دوران شام کے حلیف ملک  روس نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے علاوہ شامی صدر بشار الاسد کے تمام مخالف باغیوں کو بھی مبینہ طور پر ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اِس صورت حال میں سفارت کاری کے عمل میں ایرانی کردار پر عالمی طاقتیں فوکس کرنے لگی ہیں۔ ایران بھی مغربی طاقتوں کی طرح یہ سوچ ضرور رکھتا ہے کہ شامی تنازعے کا فوجی حل ممکن نہیں۔ یہی بات حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کہہ چکے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے شامی تنازعے کے حل کے لیے اپنے منصوبہ جات عالمی اور علاقائی قوتوں کے سامنے رکھے ہیں۔ ان میں شام میں نیشنل یونٹی حکومت، جنگ بندی، انسدادِ دہشت گردی اور دستوری اصلاحات شامل ہیں۔ ابھی ان نکات پر مغربی طاقتوں کا کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب یورپی سفارتکاروں کے مطابق شامی بحران کے حل میں ایران کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صورت حال اتنی کشیدہ ہے کہ ایران کو کوئی بڑا کردار ادا کرنے میں آسانی نہیں ہو گی۔

Teheran Treffen Mohammad Javad Zarif Walid al-Muallim

ایک حالیہ ملاقات میں جواد ظریف اور ولید المعلم میٹنگ میں شریک ہیں

رواں ہفتے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں زور دے کر کہا تھا کہ اُن کا ملک شامی تنازعے کے پرامن سیاسی حل میں تعاون کرے تا کہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ایران کے لیے سابق فرانسیسی سفیر فرانسوا نکولاؤ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی تنازعے میں ایران کی سفارتکاری کوئی متنازعہ عمل نہیں ہے۔ نکولاؤ کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی اب شام میں بمباری کر رہے ہیں اور زمین پر ایران کے ذریعے سفارتکاری کے ذریعے حل کا تلاش کرنا کوئی غیر عملی فعل نہیں ہو سکتا۔

روس کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے اسٹریٹیجک تعلقات ہیں اور یہ دونوں ملک شام کے حلیف بھی ہیں۔ مغربی طاقتوں کا واضح طور پر کہنا ہے کہ سن 2011 میں شروع ہونے والی مسلح موومنٹ کے بعد اخلاقی اور سیاسی طور پر بشارالاسد کا اقتدار پر رہنا غلط اور ناجائز ہے۔ ایران اور روس کا مشترکہ مؤقف ہے کہ شامی تنازعے کے حل میں بشارالاسد کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کے لیے شام اِس لیے بھی اہم ہے کہ لبنان میں اُس کے اتحادی حزب اُللہ تک پہنچنے کا راستہ بھی یہی ملک ہے۔

DW.COM