1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری ڈیل سے خطہ محفوظ ہو گیا ہے، قطری وزیر خارجہ

قطر کے وزیر خارجہ خالد العطیہ نے کہا کہ گلف ممالک پرامید ہیں کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والی جوہری ڈیل سے یہ خطہ محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے دوحہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے ایک اجلاس میں کہی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے آج پیر تین جولائی کو دوحہ میں خلیج تعاون کونسل میں شریک چھ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ اس اجلاس میں امریکا اور تیل برآمد کرنے والے ان چھ ممالک کی طرف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد علاقے کی سکیورٹی کو مضبوط بنائے گا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا یہ جوہری معاہدہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنے گا بلکہ اس سے پڑوسی ممالک کے تعلقات بھی اچھے ہوں گے۔ انہوں نے ایسے خدشات کو رد کیا کہ یہ معاہدہ پڑوسی خلیجی ممالک کے ساتھ تناؤ کا باعث بنے گا۔

جوہری معاہدے کے موضوع پر قطر میں ہونے والے اس اجلاس میں قطر کے وزیر خارجہ خالد العطیہ نے چھ خلیجی ممالک کی تنظیم خلیج تعاون کونسل کی جانب سے جان کیری کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر خالد العطیہ نے مزید کہا کہ یہ اتحاد خطے کو جوہری ہتھیاروں کے ہر طرح کے خطرے سے دور رکھنا چاہتا ہے۔

خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد العطیہ کا کہنا تھا کہ جوہری ڈیل کے نتیجے میں علاقائی سطح پر استحکام پیدا ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ گلف ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے خصوصی طور پر دوحہ پہنچے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ نے دوحہ میں خلیج تعاون کونسل میں شریک چھ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی

امریکی وزیر خارجہ نے دوحہ میں خلیج تعاون کونسل میں شریک چھ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی

خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں خلیجی ممالک کو اسلحے کی فروخت میں تیزی لانے پر اتفاق کیا ہے۔ اجلاس کے بعد کیری اور ان کے قطری ہم منصب خالد بن محمد العطیہ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ بہترین حل تھا۔

اس موقع پر کیری کا کہنا تھا کہ امریکا نے بعض ایسے ہتھیاروں کی خلیجی ممالک کو فروخت میں تیزی لانے پر اتفاق کیا ہے جن کے لیے ماضی میں کافی زیادہ وقت درکار ہوتا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا اور چھ خلیجی ممالک نے انٹیلیجنس کے تبادلے اور مشترکہ فوجی مشقوں کی تعداد بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔