1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری ڈیل امریکی مفاد میں نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے نہ تو عالمی جوہری ڈیل سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور نہ ہی ایرانی محافظین انقلاب کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے ان گارڈز پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوہری ڈیل امریکی مفاد میں نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بروز جمعہ وائٹ ہاؤس میں کہا ہے کہ وہ ایرانی جوہری ڈیل کو حاصل امریکی حمایت واپس لے رہے ہیں کیونکہ یہ ڈیل امریکی مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایرانی جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ‘ (JCPOA) نامی یہ ڈیل کا فیصلہ امریکی کانگریس کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اس جوہری ڈیل پر عملدرآمد کر رہا ہے لیکن اس کی دیگر سرگرمیاں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری، عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، ماہرین

’انقلابی گارڈز دہشت گرد تو پھر امریکی فوج بھی دہشت گرد‘: ایران

امریکی پابندی کے باوجود ایران نےبیلسٹک میزائل تجربہ کرلیا

امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اس ڈیل میں ترامیم کس طرح ممکن ہو سکتی ہیں۔ اب کانگریس کے پاس ساٹھ دنوں کا وقت ہے کہ وہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے کہ آیا یہ ڈیل کچھ امریکی قوانین کے مطابق ہے کہ نہیں۔ یوں امریکی کانگریس نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس ڈیل کو ختم کر دینا چاہیے یا ایران پر پابندیاں عائد کرنا چاہییں۔

یہ امر اہم ہے کہ اگر اس تناظر میں ایران پر پابندیاں عائد کی گئیں تو یہ ڈیل اپنی موت آپ ہی مر جائے گی۔ ایران خبردار کر چکا ہے کہ اگر ایرانی محافظین انقلاب کو نشانہ بنایا گیا یا دیگر پابندیاں عائد کی گئیں تو اس کا سخت ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظثم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر کی ایران کے بارے میں نئی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایران کے بارے میں موقف ’جرات مندانہ‘ ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام، شام اور یمن میں مداخلت اور علاقائی سطح پر عدم استحکام پھیلانے پر واشنگٹن کو تحفظات لاحق ہیں۔ اس تمام معاملے پر امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کانگریس پر زور نہیں دے گی کہ وہ ایران پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرے۔

اہم امریکی سینیٹر باب کروکر کے مطابق صدر ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس ڈیل کی شق ’ایرانی جوہری ڈیل پر نظر ثانی ایکٹ‘INARA میں ترامیم کے تحت اس عالمی معاہدے میں پائے جانے والی کمیوں کو پورا کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح یہ ڈیل ختم بھی نہیں ہو گی اور امریکی تحفظات دور ہو سکیں گے۔ تاہم کچھ امریکی سینیٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس ایکٹ میں ترمیم کے باعث اس ڈیل کی اصل روح متاثر ہو جائے گی۔

دوسری طرف ایران نے بھی کہا ہے کہ امریکا اس عالمی جوہری ڈیل کی اصل روح کی خلاف ورزی کی کوشش میں ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کی فوج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ واشنگٹن عالمی جوہری ڈیل کی روح کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے۔

ادھر روس نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی جوہری ڈیل سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو یہ بین الاقوامی تعلقات اور جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔ کریملن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایسی ممکنہ پیش رفت سے علاقائی اور عالمی امن کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

DW.COM