1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری پروگرام سےمتعلق خبریں ’بے بنیاد اور لغو‘ ہیں، پاکستان

پاکستان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونیوالی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران کو35 لاکھ ڈالر رشوت دی تھی۔

default

اخبار کے مطابق یہ خط ایک شمال کوریائی آفیسر نے1998ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو لکھا تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے جمعرات کے روز صحافیوں کو ہفتہ واری بریفنگ دیتے ہوئے بتایا، ’’اس طرح کی خبریں آنا معمول کی بات ہے یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ اس پر میرا تبصرہ صرف یہ ہے کہ یہ بالکل بے بنیاد اور لغو ہے۔‘‘
76سالہ جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں جوہری پھیلاؤ کا اعتراف کرنے پر2004ءمیں ان کے گھر پر ہی نظر بند کردیا گیا تھا اور پھر 2009ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں ایک آزاد شہری قرار دیتے ہوئے ان کی نظر بندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

Dr. Abdul Qadeer Khan

ڈاکٹر قدیر اس وقت بھی اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر مقیم ہیں

ڈاکٹر قدیر اس وقت بھی اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر مقیم ہیں، جہاں انہیں سخت سکیورٹی حصار میں رکھا گیا ہے اور اس وقت بھی وزارت داخلہ کی جانب سے ان کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست زیر سماعت ہے، جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سکیورٹی اقدامات کا خیال نہیں رکھتے۔

USA Presse Washington Post Hauptquartier Logo

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ڈاکٹر خان کے نام خط کی نقل اُس کے پاس ہے تاہم یہ کہ پاکستانی حکام نے اسے جعلی قرار دیا ہے


دوسری جانب امریکی اخبار کی اس رپورٹ کو پاکستانی فوج کے تشخص کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی فوج سے متعلق کتاب 'ملٹری ان کارپوریٹڈ' کی مصنفہ اور تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے، ’’پرویز مشرف کے زمانے میں یہ ساری بات چلی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ٹی وی کی سکرین کے آگے بٹھا کر یہ کہنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ وہ مانیں کہ جوہری پھیلاؤ میں سارا قصور ان کا ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس وقت بھی پاکستان میں یہ بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر قدیر تنہا سب چیزوں کے قصور وار نہیں ہیں اور بھی لوگ ہیں، جو اس میں ملوث ہوں گے۔‘‘

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا، ’’اب یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ پیسے لیے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معلوم کیا جائے کہ کون سے جرنیل اور آفیسر تھے جنہوں نے پیسے لیے۔ میرے خیال میں اس سے زیادہ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس وقت یہ خط جاری کیا۔‘‘

دفتر خارجہ کی جانب سے امریکی اخبار کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا کہ دفتر خارجہ تو اسی طرح کے بیانات دیتا رہتا ہے لیکن واشنگٹن پوسٹ اس طرح کا خط خود نہیں بنا سکتی تھی۔
ادھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تا ہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کی جانب سے اس خط کے بارے میں ردعمل سامنے آنے کے بعد ہی اصل حقائق معلوم ہو سکیں گے لیکن بعض حلقے دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سر براہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کی طرز پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بھی کمشن بنانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM