1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری پروگرام: ایران کے موقف میں لچک

ایران نے متنازعہ ایٹمی پروگرام پر مغرب کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اپنے موقف میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بات چیت کے لئے نئے منصوبے بھی تیار کر لئے ہیں۔

default

Said Dschalili / Atomstreit / Iran

ایران کے جوہری پروگرام کے اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی

تہران کے جوہری پروگرام کے اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی نے صحافیوں کو بتایا کہ مغرب اور بین الاقوامی برادری کے خدشات دور کرنے کے لئے ایران حکومت اپنے نئے منصوبے سب کے سامنے رکھنے کے لئے تیار ہے۔

ایران کے مذاکرات کار سعید جلیلی نے منگل کو اس امید کا اظہار کیا کہ تہران کے ایٹمی پروگرام پر جلد ہی مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔ ’’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا میں امن، انصاف اور ترقی کے لئے بات چیت کے ذریعے تعاون کر سکتے ہیں۔‘‘

جلیلی نے بغیر تفصیلات بتائے کہا کہ مذاکرات سے متعلق نئے منصوبوں پر مبنی ایک پیکیج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے سامنے رکھا جائے گا۔

سعید جلیلی کی طرف سے مذاکرات کی اس پیشکش کی ٹائمنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ آج بدھ کو ہی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی فرینکفرٹ میں تہران کے جوہری پروگرام پر مزید بات چیت کرنے والے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا اصرار ہے کہ تہران حکومت پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہییں۔

امریکہ نے ایران حکومت کو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے ستمبر کے آخر تک کا وقت دے رکھا ہے۔ وائٹ ہاوٴس کے مطابق یہ معیاد یعنی ڈیڈ لائن گزرجانے کے بعد تہران پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ وائٹ ہاوٴس نے منگل کے روز یہ بھی بتایا کہ ابھی تک اسے مذاکرات سے متعلق ایران کی طرف سے رسمی طور پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا ہے۔

Deutschland Wahlen Bundeskanzlerin Angela Merkel Pressekonferenz in Berlin

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایران پر مزید پابندیاں چاہتی ہیں

وائٹ ہاوٴس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا کہ ایران کے مذاکرات کار کی طرف سے تازہ پیشکش کے بارے میں رپورٹوں کے بارے میں انہیں علم تو ہے تاہم ابھی تک کوئی رسمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ’’ہمیشہ سے ہی ہماری یہ توقع اور امید رہی ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے خدشات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر انہیں دور کرے۔‘‘

مغربی ملکوں کو خدشہ ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہے تاہم تہران حکومت کے مطابق اس کا نیوکلیئر پروگرام بالکل پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

مغربی ممالک ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو ایک سخت گیر موقف رکھنے والے سیاست دان کے طور پر دیکھتے ہیں جو اسرائیل کی ریاستی حیثیت کو بلا خوف تردید کئی مرتبہ چیلنج کرچکے ہیں۔ ایرانی حکام کا تاہم کہنا ہے کہ جوہری پروگراموں سے متعلق امریکہ اور یورپ نہ صرف دوہرے معیار سے کام لیتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں ان کی پالیسیوں میں کھلم کھلا تضاد موجود ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM