1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری معاملے پر ایران کی مزید مہلت کی درخواست

ایران نے عالمی جوہری توانائی کے ادارے IAEA کی جانب سے یورینیم کی روس میں افزودگی کی تجویز کا جواب مقرر کردہ وقت میں نہیں دیا بلکہ سوچ بچار کے لئے مزید وقت مانگا ہے۔

default

ایرانی میڈیا، البتہ اپنے ذرائع سے دعویٰ کر رہا ہے کہ تہران حکومت اپنے ایٹمی ری ایکٹر کے لئے، یورینیم کی بیرون ملک منتقلی پر تیار نہیں بلکہ ملک کے اندر ہی اس کی افزودگی یا براہ راست خرید کے اپنے موقف پر قائم ہے۔

جمعہ کی شب آخری لمحات میں انٹر نیشنل اٹامک انرجی کمیشن نے واضح کیا کہ ایران نے ان کی تجویز کا ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بجائے مزید مہلت مانگی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے، آئی اے ای اے میں ایرانی نمائندے علی اصغر سلطانی کا بیان نشر کیا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل محمد البارادئی کو اپنے جواب سے اگلے ہفتے آگاہ کر دیں گے۔ البارادئی کو امید ہے کہ ایران کا جواب مثبت ہوگا۔

Österreich IAEA Atom Verhandlungen mit dem Iran El Baradei

آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البارادئی

اس سے قبل امریکہ، روس اور فرانس اس تجویز سے متعلق، مقررہ وقت یعنی جمعہ کی شب تک، اپنے مثبت ردعمل سے اس عالمی ادارےکو آگاہ کر چکے ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق ایران محض وقت ضائع کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جس کے باعث جوہری پروگرام سے متعلق تہران اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی یہ کوشش رائیگاں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی سرد مہری کو مغربی ممالک نے کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ وہ، ضوابط کے تحت، افزودہ یورینیم کی خریداری کو ترجیح دیں گے، بجائے اس کے کہ وہ اپنے یورینیم کے ذخائر افزودگی کے لئے بیرونِ ملک بھیجیں۔

Weltsicherheitsrat verurteilt Nordkorea

سیکیوریٹی کونسل اقوام متحدہ

واضح رہے کہ اگر ایران، البارادئی کی تجویز کے مطابق مقررہ مقدار میں یورینیم بیرون ملک منتقل کرتا ہے تو امکان ہے کہ اس کے پاس ایٹم بم بنانے کے برابر افزودہ یورینیم میں کمی آ سکے گی۔ ایران کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن طریقے سے توانائی کے حصول کے لئے ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے ساتھ ساتھ جرمنی بھی اگلے ہفتے ایک بار پھر ایرانی حکام سے اس سلسلے میں جینیوا میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ البتہ ماہرین کے بقول ایرانی حکام کی جانب سے عالمی جوہری توانائی کے ادارے کی تجویز کا بر وقت مثبت جواب نہ دینا، جینیوا مذاکرات پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امجد علی