1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری معاملات میں امتیازی رویہ قبول نہیں، پاکستان

پاکستان نے زور دیا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیار پوری طرح محفوظ ہیں اور انہیں کسی طرح کا خطرہ لاحق نہیں۔ اسلام آباد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی ’امتیازی رویے‘ کو قبول نہیں کرے گی۔

default

پاکستان میں جوہری املاک کے نگراں ادارے نیوکلیئر کمانڈر اتھارٹی (این سی اے) کا کہنا ہے کہ اس نے بہترین سکیورٹی اقدامات کر رکھے ہیں۔ منگل کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ این سی اے کے عہدے داروں کے اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا، ’جوہری ریاست کے طور پر پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لئے مؤثر ترین نظام تشکیل دیا گیا ہے۔’

بیان میں مزید کہا گیا، ’یہ سکیورٹی اقدامات بین الاقوامی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔‘

وکی لیکس کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے امریکی خفیہ سفارتی پیغامات کے مطابق عالمی برادری میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر وسیع تر تشویش پائی جاتی ہے۔ ان پیغامات کے مطابق امریکہ خفیہ طور پر پاکستان کو اس بات پر تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ یورینیئم کی چوری کے خدشے کے پیشِ نظر وہ اسے منتقل کرنے کی اجازت دے۔ تاہم پاکستان نے یہ درخواست مسترد کی۔

پاکستان نے اپنے حریف بھارت کی جانب سے نیوکلیئر ٹیسٹ کے بعد مئی 1998ء میں جوہری تجربے کئے تھے۔ اس ریاست کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے مغربی اتحادیوں نے بارہا اس کے استحکام پر سوال اٹھائے ہیں۔

Yousuf Raza Gilani pakistanischer Premierminister

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق گزشتہ برس ستمبر کے ایک سفارتی پیغام میں برطانیہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر ’گہری تشویش‘ ظاہر کی تھی۔ لندن حکام نے کہا تھا کہ پاکستان کے مرکزی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قیام میں معاونت فراہم کرنے والا ملک چین، اس کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

این سی اے کا یہ بیان چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ کے دورہ پاکستان سے دو روز قبل سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد حکومت امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری معاہدہ چاہتی ہے، جو واشنگٹن نے نئی دہلی سے کر رکھا ہے، تاہم امریکہ ایسا ہی معاہدہ پاکستان کے ساتھ کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ این سی اے نے اپنے بیان میں ’امتیازی رویہ’ غالباﹰ اسی کو قرار دیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس