1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری مذاکرات کے حوالے ایرانی رویے میں تبدیلی

ایرانی وزرات خارجہ کے ایک ترجمان حسن قشقاوی کا کہنا ہے کہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بات چیت جوہری توانائی کےعالمی ادارے آئی اے ای اے کی ذمہ داری ہے نہ کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی۔

default

احمدی نژاد نے بھی عالمی طاقتوں کی جانب سے پابندیوں سخت کرنے کے ممکنہ اقدام کو مسترد کر دیا ہے

رواں سال جولائی میں جی ایٹ تنظیم نے ایران کے جوہری پروگرام پر پائے جانے والے تنازعےکو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لئے ستمبر تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔ امیر صنعتی ممالک کی اس تنظیم کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے باوجود ایران کے رویہ میں لچک دکھائی نہیں دی رہی اور تہران حکومت ہر قسم کے دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے۔گزشتہ روز جرمنی میں اسی موضوع پر ہونے والے ایک اہم اجلاس میں ایران پر عائد پابندیوں کو مزید سخت بنانے کے حوالے سے پیشگی منصوبہ بند ی پر غور کیا گیا۔

جرمن وزرات خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے نمائندوں کےاس اجلاس کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے لائحہ عمل کی تیاری کے بارے میں بحث کرنا تھا۔ تاہم اس اجلاس کا مقصد کسی قسم کی قرارداد کی منظوری نہیں تھا۔

ایران نے رواں ہفتے کے دوران ہی اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنےکا عندیہ دیا تھا، تاہم آج ایرانی وزرات خارجہ کے ایک بیان کے مطابق تہران حکومت مغربی ممالک کے نمائندوں سے مذاکرات نہیں کرےگی۔ وزرات خارجہ کے ایک ترجمان حسن قشقاوی کا کہنا ہے کہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بات چیت جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی ذمہ داری ہے نہ کہ سلامتی کونسل کےارکان کی۔ مزید یہ کہ مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سےکوئی تاریخ مقرر کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایران کےسرکاری خبر رساں ادارے ارنا سے جاری ہونے والے اس بیان میں قشقاوی نے مزید کہا کہ لگائی جانے والی پابندیاں بے اثر ثابت ہوں گی اور ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور ایران اس سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران پرامن مقاصد کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔

جرمن شہر ویز باڈن میں ہونے والے اجلاس میں عالمی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے ایک مرتبہ پھر تہران حکومت سے تعطل کے شکار جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے دھمکی دی کہ اگر ایران اس ماہ کے آخر تک مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو پہلے سے عائد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب کل 4 ستمبر سے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس دو روزہ اجلاس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال اور مشرقی وسطٰی امن عمل کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ سویڈن کے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام پر جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے صدر دفتر ویانا میں اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی