1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری سپلائی گروپ کے نئے رہنما اصول

گروپ کے نئے فیصلے کے تحت وہ ریاستیں جوہری ٹیکنالوجی حاصل نہیں کر سکتیں جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ وہ ایٹم بم بنانے کا سلسلہ شروع کر سکتی ہیں۔

default

سفارتکاروں کا خیال ہے کہ نیوکلیئر سپلائی گروپ (NSG) کے تازہ فیصلے سے بھارتی حکومت میں تشویش اور برہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ نئے رہنما اصولوں کے حوالے سے ابھی بھارتی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ نیوکلیئر سپلائی گروپ کے نئے رہنما اصولوں پر ممبران کے درمیان بات چیت کا عمل ایک سال سے جاری تھا۔ اس ماہ کی 23 اور 24 تاریخ کو گروپ کے اجلاس میں ان کی حتمی منظوری دی گئی تھی۔

اس مناسبت سے یہ بھی اہم ہے کہ بھارت کے پاس یورینیم افزودہ کرنےکی صلاحیت پہلے سے موجود ہے۔ اس گروپ سے بھارت کو خاص استثنیٰ امریکہ کی مدد سے سن 2008 میں حاصل ہوا تھا، جب امریکہ بھارت سول جوہری معاہدے کی امریکی کانگریس سے منظوری دی گئی تھی۔ اسی استثنیٰ کے بعد بھارت کو نیوکلیئر اسلحے کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ جوہری ٹیکینالوجی اور اییندھن تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

Raketentest Indien

ان نئے رہنما اصولوں پر بھارت کی جانب سے شدید ردعمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔

جوہری معاملات کے ایک ماہر ڈیرل کیمبل کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس جوہری صلاحیت پہلے سے موجود ہے اور وہ یقینی طور پر نئی درآمدات سے اپنی جوہری ہتھیار سازی کو تقویت دینے کا خواہشمند نہیں ہو گا۔ بعض دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ چند نئی شرائط سے بھارت کو تشویش لاحق ہو سکتی ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ڈیرل کیمبل کا ان شرائط کے حوالے سے کہنا ہے کہ ان پر بھارت کی جانب سے شدید ردعمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کیمبل کے مطابق بھارت یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے تجارتی پابندیوں سے علیٰحدہ ہے اور وہ ایک ذمہ دار جوہری قوت ہے۔ کیمبل کے مطابق NSG کے پرانے رہنما اصولوں میں جو خامیاں تھیں انہیں اب درست کردیا گیا ہے۔

پانچ تسلیم شدہ جوہری طاقتوں کے علاوہ کسی اور ملک کو جوہری ٹیکنالوجی کی امپورٹ کے حوالے سے اپنی جوہری تنصیبات کے مقامات کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے مرتب کردہ سیف گارڈ اصولوں کے تحت محفوظ بنانا ضروری ہے۔ نئے رہنما اصولوں کی منظوری کے بعد اب بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے دیگر آلات و ایندھن کی امپورٹ میں خاصی مشکلات حائل ہوں گی۔

نیوکلیئر سپلائی گروپ (NSG) میں کل چھیالیس اقوام شامل ہیں۔ ان ملکوں میں امریکہ، روس اور چین کے علاوہ بعض اہم یورپی ملک بھی شامل ہیں۔ یہ گروپ جوہری درآمدات کی نگرانی کرتا ہے تا کہ اس سے جوہری ہتھیار سازی کا سلسلہ نہ شروع ہو سکے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس