1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری سلامتی کانفرنس میں وعدے اور دعوے

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں دو روزہ جوہری سلامتی کانفرنس جاری ہے۔ پہلے روز کی اہم پیش رفت یوکرائن کی جانب سے انتہائی افزودہ یورینیم کو اگلے دو برسوں میں مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان رہا۔

default

اس سربراہ کانفرنس کے موقع پر سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں

47 ممالک کے سربراہان کے اس بین الاقوامی جوہری سلامتی اجلاس کے پہلے روز یوکرائن کے نومنتخب صدر وکٹور یانوکووچ نے کہا کہ ان کاملک اگلے دو برسوں میں انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبردار ہوجائے گا۔ یہ بیان وکٹور یانوکووچ اور امریکی صدر باراک اوباما کی باہمی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

چھ دہائیوں بعد امریکہ میں منعقدہ اس سب سے بڑی سربراہ کانفرنس میں جوہری ایندھن کے حوالے سے بین الاقوامی لائحہء عمل پر غو ر کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہاپر نے بھی اپنے ملک میں موجود انتہائی افزودہ جوہری ایندھن کی امریکہ منتقلی کا اعلان کیا ہے۔

Ukraine Viktor Janukowitsch als Präsident eingesetzt Kiew

یوکرائن کے صدر وکٹور یانوکووچ نے انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے

اس اجلاس میں جوہری ہتھیاروں تک دہشت گردوں کی رسائی کے انسداد کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر غورکیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء امریکہ اور روس منگل کے روز ایک معاہدے پر دستخط کر دیں گے، جس کے تحت دونوں ممالک فاضل مقدار میں ہتھیار بنانے کی صلاحیت کی حامل پلوٹونیم کو تلف کر دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت روس اور امریکہ 34 میٹرک ٹن پلوٹونیم ایٹمی ری ایکٹروں میں جلا دیں گے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اجلاس کے پہلے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کی ابتر صورتحال میں ان کا ملک جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس یک طرفہ طور پر ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا، جس سے اس کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔

دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این سے بات چیت میں ان اخباری خبروں کی تردید کر دی، جن میں کہا جا رہا تھا کہ پاکستان نئے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے۔ پیر کے روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک نئے جوہری پلانٹ میں جوہری ہتھیاروں کی دوسری جنریشن کی تیاری میں مگن ہے۔ گیلانی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ یہ خبریں درست نہیں اور پاکستان جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں بھارت کے ساتھ دوڑ میں شریک نہیں۔ اسی اخبار رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان ایک ایسے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے، جس کے تحت نئے جوہری مواد کی تیاری پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM