1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جوہری توانائی ترک کرنے کا جرمن فیصلہ جذباتی ہے، فرانسیسی ارکان پارلیمنٹ

فرانسیسی ارکان پارلیمنٹ نے جوہری توانائی کا استعمال ترک کرنے کے جرمن فیصلے کو جذباتی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے برلن اور پیرس کے تعلقات اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

default

فرانسیسی ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ جرمنی نے یہ فیصلہ جاپان کے جوہری بحران کے نتیجے میں کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے جرمنی کو اس موضوع پر یورپی سطح پر بات چیت کرنی چاہیے تھی۔ یہ باتیں فرانسیسی سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے ارکان نے دورہ برلن کے موقع پر کہی ہیں۔

ان کا یہ بیان جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے جوہری توانائی کے استعمال پر اپنے مؤقف میں تبدیلی کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ اس وقت میرکل نے جوہری توانائی کا استعمال جلد سے جلد ترک کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جرمنی کے اس فیصلے نے قریبی اتحادی فرانس کو چونکا دیا، جو جوہری توانائی پر انحصار کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ وہاں درکار توانائی کا 75 فیصد اٹھاون جوہری پاور پلانٹس کے ذریعے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی یوایم پی پارٹی کے رکن فیلیپ مارینی کا کہنا ہے، ’ہم اپنے جرمن ساتھیوں کے اس فیصلے کو سمجھتے ہیں، لیکن اس سے یورپی سطح پر بہت مسائل کھڑے ہوں گے اور فرانس کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑے گا۔’

انہوں نے مزید کہا، ’یہ فیصلہ مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔ ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے نتائج کا سامنا فرانس کو بھی کرنا پڑے گا اور اس پر وسیع پیمانے پر بات ہونی چاہیے۔’

No flash Angela Merkel auf der Sicherheitskonferenz

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

خیال رہے کہ فرانس کا سرکاری نیوکلیئر گروپ اریفا جوہری پاور پلانٹس کے تحفظ کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ گروپ تحفظ کے اعلیٰ معیار کو مدِنظر رکھتے ہوئے جدید ترین ای پی آر ری ایکٹرز بناتا ہے۔

دوسری جانب فرانس کے بیشتر عوام بھی جوہری توانائی کے استعمال کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کی بدولت انہیں یورپی اوسط کے تناظر میں بجلی کے بل کے لیے کم ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس