1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری تنازعے پر ایرانی رویہ بہتر ہوا، محمد البرادئی

جوہری توانائی کے عالمی ادارے IAEA کے سربراہ محمد البرادئی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات تنازعے کے بجائے تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تہران حکام اپنے نئے جوہری پلانٹ کے معائنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

default

محمد البرادئی نے کہا ہے کہ 'آئی اے ای اے' کے معائنہ کار 25 اکتوبر کو ایران کے نئے جوہری پلانٹ کا دورہ کریں گے۔ وہ تہران میں حکام سے ملاقات کے بعد ایران کے ایٹمی شعبے کے سربراہ علی اکبر صالحی کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر عالمی تشویش برقرار ہے۔

جوہری توانائی پر اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری یہ جاننا چاہتی ہے کہ ایران مستقبل میں اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتماد پیدا کرنے کا معاملہ ہے اور اسی وجہ سے چھ فریقی مذاکرات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اُدھر امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جِم جونز نے اتوار کو ایک بیان میں ان خبروں مسترد کیا کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ

Anreicherungsanlage für Uran im Iran

ایرانی جوہری پلانٹ کی خلاء سے لی گئی تصویر

ہفتوں سے جوہری عدم پھیلاؤ کے لئے ایرانی تعاون بہت اچھا رہا ہے۔

وہ امریکی روزنامہ 'نیویارک ٹائمز' میں ہفتہ کو شائع ہونے والی اس رپورٹ پر بات کر رہے تھے، جس میں کہا گیا کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ایک خفیہ جائزے کے مطابق ایران نے ایٹم بم بنانے کے لئے ضروری معلومات حاصل کر لی ہیں۔

جِم جونز نے کہا، 'ایران ایٹم بم بنانے کا طریقہ کار جانتا ہے یا نہیں، یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ تاہم ہمارے لئے زیادہ ضروری یہ بات ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ اب عالمی برادری کا سامنا ایک ایسے ایران سے ہے جو مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہے۔

ایران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے گزشتہ جمعرات کو جنیوا میں چھ فریقی مذاکرات میں شرکت کی تھی، جس میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی شامل تھا۔ مغربی حکام کے مطابق ان مذاکرات میں تہران حکام نے افزودہ یورنیئم کو دوبارہ پروسیسنگ کے لئے روس یا فرانس بھیجنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

جِم جونز نے کہا کہ چھ فریقی مذاکرات کا آئندہ دور 19 اکتوبر کو ہوگا اور اس موقع پر 12سو کلو گرام کم تر افزودہ یورنیئم کو روس منتقل کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت ہو گی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر

DW.COM