1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری تنازعہ، ایران بات چیت پر ’آمادہ‘

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران حکومت عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس حوالے سے یورپی یونین کو ایک خط ارسال کیا جا رہا ہے، جس میں ایران نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

default

ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے یہ بیان وزیر خارجہ علی اکبر صالحی اور ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد کی ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس چینی وفد نے جمعہ کی شام تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔ دریں اثناء ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کو ایک خط تحریر کرنے والے ہیں، جس میں باقاعدہ طور پر متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جائے گی۔ ایرانی بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران امریکہ، فرانس، چین، برطانیہ، روس اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے جرمن دارالحکومت برلن میں متعینہ ایرانی سفیر علی رضا شیخ عطار کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ جلیلی کے مراسلے کے منتظر ہیں تاکہ چھ فریقی مذاکرات کے دائرے میں جرمنی سمیت یورپ بھر کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے رواں برس ستمبر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات سخت شرائط کے ساتھ ہی ممکن ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے ایران کی اس ممکنہ پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

Atomgespräche Genf Saeed Jalili

سعید جلیلی اس سلسلے میں جلد ہی ایک خط تحریر کرنے والے ہیں

واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے تمام تر مذاکرات ناکام رہے ہیں۔ اس سلسلے میں رواں برس جنوری میں استنبول میں آخری مرتبہ مذاکرات ہوئے تھے، تاہم وہ بھی بے نتیجہ ہی رہے تھے۔ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ فریقین کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہ کرنا بتایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کو خدشات ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے جبکہ تہران حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتی ہے۔

ابھی حال ہی میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ غالباً ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر مائل ہے، جس کے بعد امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے ایران کے خلاف پہلے سے عائد پابندیوں کو مزید سخت بنا دیا تھا۔ اس کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب ایرانی بحریہ ان دنوں آبنائے ہرمز میں بڑی جنگی مشقوں میں بھی مصروف ہے۔ ہفتے کے روز ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل ایک میزائل کا تجربہ بھی کیا، تاہم ایرانی بحریہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میزائل تجربات اگلے چند روز میں کیے جائیں گے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM