1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری بجلی گھروں کا معاملہ، جرمن چانسلر پراعتماد

جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر اعتماد ہیں کہ پارلیمان کے ایوان بالا سے منظوری کے بغیر ہی جوہری بجلی گھروں کی مدت استعمال میں توسیع کا قانون منظور کرا لیا جائے گا۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمنی کی مخلوط حکومت میں طویل سوچ و بچار کے بعد اس متنازعہ فیصلے پر اتفاق رائے قائم ہوچکا ہے۔ اس کے تحت ملک کے سترہ جوہری بجلی گھر پہلے سے طے شدہ منصوبے سے اوسطاﹰ بارہ سال مزید عرصے تک بجلی پیدا کرتے رہیں گے۔ جرمنی میں اپوزیشن کی جماعت اور بعض ماحول دوست تنظیمیں برلن حکومت کے اس فیصلے کی مخالف ہیں اور

Greenpeace-Aktivsten protestieren vor AKW Krümmel

جرمنی میں جوہری بجلی گھروں کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے

اس قانون سازی کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا عندیہ دے چکی ہیں۔

چانسلر میرکل نے پیر کو بتایا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ کسی رکاوٹ اور پارلیمان کے ایوان بالا سے منظوری کے بغیر ہی یہ قانون لاگو کرا لیا جائے گا۔ جرمنی میں ہر قانون کے لئے سولہ ریاستوں کے نمائندہ ’بنڈس راٹ‘ کے ایوان بالا سے منظوری لازمی نہیں ہوتی۔ فری ڈیموکریٹس اور قدامت پسندوں کی اتحادی جرمن حکومت کے حالیہ فیصلے کو بجلی کی تقسیم کے ذمہ دار اداروں نے سراہا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں ایس پی ڈی اور گرین پارٹی واضح کرچکی ہیں کہ وہ اس قانون سازی کو رکوانے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھائیں گے۔ دونوں یہ عزم ظاہر کرچکی ہیں کہ اگر انہیں 2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تو وہ جوہری بجلی گھروں کی مدت میں اضافے کے قانون کو ختم کردیں گی۔ ان جماعتوں کو موجودہ برسراقتدار جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ ایس پی ڈی سے وابستہ سابق چانسلر گیرہارڈ شیروڈر نے ملک کے تمام جوہری بجلی گھروں کو 2021ء تک بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

چانسلر میرکل کی مشکل یہ ہے کہ رواں سال مئی میں ہوئے علاقائی انتخاب میں شکست کے بعد انہیں ایوان بالا میں اکثریت حاصل نہیں رہی ہے۔

Hu Jintao Besuch in Deutschland Gerhard Schröder

سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شیروڈر

برلن انسٹیٹیوٹ آف انرجی اینڈ ریگولیٹری لاء سے وابستہ فرانس یوئیرگین زائیکیر کا البتہ کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ اس قسم کے قانون کے لئے ایوان بالاء سے منظوری کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب عوامی حلقوں میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے خلاف مزاحمت کا عنصر پہلے ہی موجود تھا اور اب پرانے پلانٹس کی مدت استعمال میں توسیع کے خلاف نئی مزاحمت دیکھی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں 18 ستمبر کو ایک بڑے احتجاج کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ سابق سوویت یونین میں چرنوبل کے جوہری حادثے نے جرمن عوام کو جوہری بجلی گھروں سے بد دل اور خوفزدہ کر رکھا ہے۔ برلن حکومت نے جوہری بجلی گھروں کی مدت استعمال میں حالیہ اضافے کے غیر مقبول فیصلے کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ بجلی کی تقسیم پر مامور اداروں سے پیشگی تیئس بلین یورو وصول کئے جائیں گے جو توانائی کے قابل تجدید ذرائع کے حصول پر خرچ ہوں گے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں توانائی کا 23 فیصد جوہری بجلی گھروں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جب کوئی جوہری بجلی گھر پیداوار شروع کرنے کے بعد اپنی لاگت پوری کرلیتا ہے تو پھر وہ بڑے پیمانے کے کسی بھی پلانٹ کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس