1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جوہری اسلحے کی تخفیف کا معاہدہ:امریکی سینیٹ کا گرین سگنل

روس اور امریکہ کے مابین جوہری اسلحے کی تخفیف سے متعلق New START نامی معاہدہ طے پانے کے نزدیک تر آ گیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں اس بارے میں ہوئی رائے شماری میں 67 ووٹ اس کے حق میں جبکہ 28 اس کے خلاف دئے گئے۔

default

امریکی سینیٹ نے اسٹارٹ کی منظوری دے دی

کئی روز سے ریپبلکنز اور ڈیمو کریٹس کے مابین گرما گرم بحث کا باعث بنے ہوئے اس معاہدے پر آخر کار سینیٹ کے ڈیمو کریٹ اراکین کے ساتھ ساتھ ریپبلکن ممبران نے بھی کافی تعداد میں New START معاہدے کے حق میں فیصلہ دے کر اس کی راہ ہموار کردی ہے۔ اس معاہدے کی حتمی توثیق آج 22 دسمبر کو متوقع ہے۔

جوہری اسلحے کی تخفیف سے متعلق معاہدے START کی مخالفت کرنے والے ریپبلکنز کا مضبوط محاذ آخر کار پارہ پارہ ہو گیا۔ بظاہر اس معاہدے کے سلسلے میں دباؤ بہت زیادہ تھا۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے اب تک کے ریپبلکن وزرائے خارجہ کے علاوہ موجودہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مُولن نے مشترکہ طور پر سینیٹ پر زور دیا تھا کہ سال رواں کے اختتام تک اسٹارٹ معاہدے کی توثیق ہو جانی چاہئے۔

Obama Afghanistan USA Pakistan

روس کے ساتھ اسٹارٹ معاہدے پر سینیٹ کی منظوری، اوباما کی ایک اور کامیابی تصور کی جا رہی ہے

اس معاہدے کی منظوری پرحال ہی میں لزبن منعقدہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اجلاس میں لیتھوینیا اور ناروے سے لے کر ڈنمارک، ہنگری اور بلغاریہ تک کے ریاستی اور حکومتی سربراہان نے غیر معمولی زور دیا تھا۔ حتیٰ کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ یہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

اُدھر امریکی صدر باراک اوباما نے اسٹارٹ معاہدے کو اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب کا اہم ترین موضوع بناتے ہوئے کہا تھا ’ نئے معاہدے کے بغیر روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کو مضبوط بنانے کی نئی کوششوں کا عمل آگے نہیں بڑھ پائے گا۔ یہ ایران پر سخت تر پابندیاں عائد کرنے کے لئے بھی نہایت ضروری ہے اور جوہری مواد کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی ناگزیر ہے اور اسی طرح ہم افغانستان متعینہ اپنے فوجیوں کی ضروریات بھی پوری کر سکیں گے‘۔

Flash-Galerie Deutscher Schiffbau U-Boot HDW-Werft in Kiel

اسٹارٹ معاہدے کے تحت امریکہ اور روس کو راکٹ اور آبدوزے کی بھی محدود تعداد رکھنے کی اجازت ہوگی

امریکہ کے ریپبلکن سینیٹرز کی طرف سے دراصل سب سے زیادہ تحفظات میزائل دفاعی نظام کے بارے میں پائے جاتے تھے۔ اُن کا ماننا تھا کہ اسٹارٹ معاہدے کے ذریعے روس امریکہ کو اس نظام کی تشکیل میں محدود کر کے رکھ دے گا۔ ایک ریپبلکن رکن نے تو اس معاہدے میں رد و بدل کی تجویز بھی پیش کی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ روس اور امریکہ میزائل دفاعی نظام کے سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار پھر مذاکرات کریں۔ تاہم روس اسے پہلے ہی رد کر چُکا ہے۔ گزشتہ روز ڈیمو کریٹس نے تقریباً تین گھنٹے ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ خفیہ بات چیت کی اور وہ ریپبلکنز کو معاہدے پر اتفاق کا قائل کر سکے۔

اسٹارٹ معاہدے پر گزشتہ اپریل میں باراک اوباما اور اُن کے روسی ہم منصب دمتری میدویدیف نے دستخط کر دئے تھے۔ اس کے تحت دونوں ملکوں کو 1550 سے زیادہ آپریشنل نیوکلئیر وار ہیڈز رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ اسٹارٹ معاہدے کے تحت روس اور امریکہ دونوں کو 800 سے زائد کیرئیر راکٹ، آبدوزیں اور طیارے رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس