1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جوہری اسلحے سمیت کہیں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘

بھارت اور پاکستان کے درمیان بہت سے دیرینہ تصفیہ طلب مسائل ہیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مسلسل  نشیب و فراز کا شکار رہتے ہیں۔ دونوں جانب سے سخت قسم کی بیان بازی اس ماحول کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

اس وقت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ ہیں کہ فریقین کے درمیان عوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے جو سلسلہ جاری تھا وہ بھی تقریباﹰ ٹھپ ہوچکا ہے۔ گزشتہ تقریباﹰ ایک برس سے دونوں جانب سے عالمی سرحد اور ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ معمول بن چکا ہے جس میں دونوں جانب کے فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں اس میں مزید شدت آئي ہے۔ اس کے لیے دونوں ملک ایک دوسرے پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عائد کرتے ہیں۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو طلب کر کے شہریوں کی ہلاکت پر کئی بار احتجاج بھی کر چکے ہیں۔

اس تناؤ کے ماحول میں جمعرات پانچ اکتوبر کو بھارتی فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنوا نے یہ بھی کہہ دیا کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کے اندر جوہری اسلحے سمیت کہیں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کے لیے جو سخت الفاظ اور تند لب و لہجہ اپنایا جا رہا ہے مبصرین کے مطابق وہ نہ تو کسی سطح پر سفارتی زبان ہے اور نہ ہی کوئی مناسب رویہ۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی میں بھارت اور پاکستان کی جانب سے کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے جس طرح کے بیانات اور جوابی بیانات آئے اس سے تلخی میں مزید اضافہ ہوا۔

بھارت کے سابق مرکزی وزیر اور پاکستان میں بھارت کے سابق سفیر منی شنکر ائیر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی زبان بس ’’بر صغیر کے لوگوں کا من بہلانے کے لیے ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ تو ایک کھیل ہے جسے کھیلنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

DW.COM

ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت میں انھوں نے کہا، ’’تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذکرات ہوتے ہیں تو دہشت گردی اور کراس بارڈر فائرنگ دونوں ہی جانب کم ہوجاتی ہے۔ ہماری حکومت کو کشیدگی میں اضافہ کرنے کے بجائے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔‘‘

منی شنکر کا مزید کہنا تھا، ’’اگر ہم نے بات چيت نہیں کی تو افسوس کے ساتھ کشیدگی یونہی برقرار رہے گی اور ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری رہےگا۔‘‘

منی شنکر ائیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جو پالیسی اور ترجیحات ہیں اس کے تناظر میں ایسا نہیں لگتا کہ اس حکومت کے دور میں پاکستان کے ساتھ کوئی تعمیری بات چیت ہو سکے گی۔

 وویکا نند انسٹی ٹیوٹ میں دفاعی اور خارجی امور کے تجزیہ کار سوشانت سرین کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ جو پاکستان کرے گا وہی بھارت کا جواب ہوگا اور حکومت کو اس بات کی کوئی پراہ نہیں کہ سفارتی سطح پر کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

ان کا کہنا ہے ماضی کے تجربات سے سبق لیتے ہوئے انڈیا نے اب پاکستان کے حوالے سے اپنا موقف زیادہ سخت کر لیا ہے، ’’حکومت کے لیے سیاسی طور پر بھی یہ اہم ہے۔ یہاں پر صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے۔ ایک طرح سے حکومت کی یہ ایک سیاسی مجبوری بھی ہے اور دوسری جانب یہ بھی کہ سمجھداری اس بات میں ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت سے کوئی نتیجہ اخد نہیں ہوگا۔‘‘

سوشانت سرین کے مطابق بھارت کو یہ معلوم ہے کہ چونکہ پاکستان میں اس حوالے سے فوج کو ہی فیصلے کرنے کا اختیار ہے اور انتظامیہ کچھ بھی نہیں کر سکتی اس لیے اس سے بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔   

سرحد پر کشیدہ حالات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا: ’’بس فرق اتنا ہے کہ اس حکومت نے فوج کو کھلا ہاتھ دے دیا ہے۔ یعنی مارنا ہی ہے تو پھر ٹھیک طرح سے مارو۔۔۔ تو پھر وہ مارتے  ہیں۔‘‘

انڈیا کے معروف صحافی اور تجزیہ کار کلدیپ نیئر کے مطابق بھارت اور پاکستان کے رشتے بہت خراب ہوچکے ہیں جنھیں پٹری پر لانے میں کافی وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت جس نظریے پر عمل پیرا ہے اس میں پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کلدیپ نیئر کے مطابق بھارتی حکومت کی پوری پالیسی ہی اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم ہے۔ نیئر کے مطابق، ’’مجھے تھوڑا ڈر لگ رہا ہے  کہ کہیں ایک اور لڑائی نہ ہوجائے تاہم جنگ اب بہت بڑی چيز ہوگئی ہے۔ دونوں ہی کے پاس بم ہیں تو شاید لڑائی نہ بھی ہو لیکن حکومتوں کے درمیان رشتے بہتر ہونے کے امکان بہت کم ہیں۔‘‘

Indien Premierminister Narendra Modi (Imago/Hindustan Times/D. Sansta)

منی شنکر ائیر کے مطابق نریندر مودی حکومت کی جو پالیسی اور ترجیحات ہیں اس کے تناظر میں ایسا نہیں لگتا کہ اس حکومت کے دور میں پاکستان کے ساتھ کوئی تعمیری بات چیت ہو سکے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا، ’’حکومت نے سب کچھ کر کے بھی دیکھ لیا ہے۔ سرحد پر گولہ بارود کا استعمال ہو ہی رہا ہے اور اب اس سے بدتر کیا ہوگا، تو حالت بہتر تو ہوں گے لیکن وقت لگےگا۔‘‘

انڈيا میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے تعلق سے مودی حکومت  کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اور حکومت  ملک کی سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر اپنا موقف بدلتی رہی ہے۔ لیکن ملک میں ایک حلقے کا یہ بھی کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے اور جب تک ماحول ساز گار نہیں ہوجاتا اس وقت تک بات چيت سےگریز کرنا بہتر ہے۔   

فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان تلخی اپنے عروج پر ہے اور کسی سطح پر بھی نہ تو بات چیت ہورہی ہے اور نہ ہی اس کا مستقبل قریب میں امکان ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:38

ایٹمی طاقتوں کے مابین لائن آف کنٹرول پر کشیدگی

 

Audios and videos on the topic