1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جوڑوں اور پٹھوں کی حفاظت کے لئے ورزش ضروری

انسانی جسم کے جوڑ نہایت نازک ہوتے ہیں۔ ان میں کسی بھی وقت ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ گھٹنے اچانک بے لوچ ہو سکتے ہیں اور ان کی حرکت میں نقص آ سکتا ہے۔ ان خطرات سے بچنے کا امکان موجود ہے۔

default

جسم پر معتدل بوجھ ڈالنے اور پٹھوں کو مضبوط بنانے کے عمل سے ہم گھٹنوں کی تکلیف سے بچ سکتے ہیں۔ میونخ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے اسپورٹس آرتھوپیڈکس کے شعبے کے سربراہ پروفیسر آندریاس ایمہوف کے مطابق جوڑوں کے مسائل کا تعلق اکثر عُمر سے ہوتا ہے۔ لیکن اس قسم کی تکلیف کا موازنہ پیشہ ور کھلاڑیوں کے جوڑوں اور پٹھوں کو لگنے والی رگڑ سے کیا جائے تو اُن کے جوڑوں کے گھسنے کے عمل میں واضح فرق دکھائی دے گا۔

پروفیسر ایمہوف کا کہنا ہے کہ گھٹنے،ٹخنے، شانے اورکہنیوں کے جوڑ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ والی بال اور ٹینس کے کھلاڑیوں کے کولہے کے جوڑ بھی اکثر مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔ اگر ان جوڑوں کی خرابی کا سبب ڈھلتی ہوئی عمر ہو تو انہیں بچانے کے لئے بہت زیادہ موثر اقدامات نہیں کئے جا سکتے، نہ ہی ان جوڑوں کو ان کی اصلی حالت میں دوبارہ لایا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جسمانی ورزش میں کمی کر دینی چاہئے۔

Senioren im Fitness Studio mit Thumbnail

مناسب ورزش انسان کو معذوری سے بچا سکتی ہے

تاہم جرمن شہر ہیمبرگ میں قائم ’مارین ہسپتال‘ کے ایک ماہر اور سرجن رومان فائل کا کہنا ہے کہ ٹوٹے ہوئے جوڑوں کے دوبارہ سے جڑنے اور پٹھوں کو ایک دوسرے سے ملانے والے عُضلہ کے پھٹ جانے کے بعد ان کے دوبارہ سے نارمل حالت میں آنے کے عمل کا دارومدار جسمانی ورزش اور حرکت پر ہوتا ہے۔ جو جتنا چست و چوبند ہوگا، اس کے جوڑ اور پٹھے اتنے ہیں مضبوط ہوں گے۔ جرمن ماہرین کا خیال ہے کہ بہت سے معاشروں میں بیشتر لوگ جوڑوں کا استعمال روزانہ بنیادوں پر اتنا نہیں کرتے جتنا ایک صحت مند جسم کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنی جسمانی ورزش میں اعتدال سے کام لینا چاہئے۔ مثلا انہیں ورزش آہستہ آہستہ شروع کرنی چاہئے تاہم مستقل بنیادوں پر اس کی رفتار

Fraunhofer Institut T-Shirt mit integrierten Sensoren

جاگنگ کرتی ایک جرمن خاتون

بڑھاتے رہنا چاہئے۔ پیراکی، سائیکل چلانا اور چہل قدمی اچھی ورزشیں ہیں۔ ٹینس اور بیڈ منٹن کھیلنے سے جوڑوں پرکافی زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ فٹ بال کا کھیل بھی جسم کے مختلف جوڑوں خاص طور سے گھٹنوں کو بہت زیادہ تھکاتا ہے، جبکہ جوگنگ جوڑوں کے لئے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے جسم ایک خاص رفتار میں حرکت کرتا رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جوڑوں کی خرابی کی نشاندہی ہلکے درد اور سوزش سے ہونے لگتی ہے۔ اس کا پہلا اشارہ کسی بھی جوڑ کے سخت ہوجانے اور جسم کے کسی بھی حصے کو حرکت کرنے کے عمل میں پیش آنے والی دشواری ہوتا ہے۔ پھر یہی درد مستقل شکل اختیار کر جاتا ہے۔ جوڑ اور پٹھوں کی بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش یا جسمانی حرکت کے دوران جیسے ہی کوئی درد محسوس ہونا شروع ہو ویسے ہی ورزش کی رفتار کم کر دینی چاہئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق پٹھوں کا کام جسم کی موٹر میں بریک اور شاک ابزور کا سا ہوتا ہے۔

اس لئے ان پر اتنا ہی بوجھ اور تناؤ ڈالا جانا چاہئے جتنا یہ برداشت کر سکیں۔ چند خاص قسم کی ورزشوں کو ایک خاص وقفے سے دہرانے سے پٹھوں کے اسٹمنا یا قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ معمر افراد کو اپنے جسم کے جوڑوں اور پٹھوں کی قوت برداشت کے مطابق ہی جسمانی حرکت کرنی چاہئے۔ کیونکہ کُری یا نرم ہڈی کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ نا ممکن ہوتا ہے۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM