1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جولی کی فلم، بوسنیا جنگ کی یادیں تازہ

امریکی اداکارہ انجیلینا جولی کی نئی فلم نے سن 1992ء سے 1995 تک جاری رہنے والے بوسنیا سرب تنازعے کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ اس فلم میں دکھائے گئے مناظر اس مسلح تنازعے میں پیش آنے والے خونریز واقعات پر مبنی ہیں۔

default

جمعرات کے روز یہ فلم اسکریننگ کے لیے سراجیوو میں پیش کی گئی۔ یہ وہی شہر ہے، جہاں ہزاروں افراد اس مسلح تنازعے میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔ Rukija Vrckalo نامی خاتون اس وقت سراجیوو شہر کی رہائشی تھیں۔ وہ 43 ماہ تک سرب فوج کے ہاتھوں اس شہر کے کیے جانے والے محاصرے، حملوں اور بمباری کے باوجود بچ جانے میں کامیاب رہیں۔ سراجیوو میں جولی کی ’’اِن دا لینڈ آف بلڈ اینڈ ہنی‘‘ یعنی ’شہد اور خون کا شہر نامی اس فلم کو دیکھنے کے بعد سینیما سے نکلتے ہوئے Rukija Vrckalo کی آنکھوں میں آنسو تھے، ’میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’جب فلم میں گرینیڈ اور بم پھٹ رہے تھے، تو مجھے یوں لگ رہا تھا، جیسے جنگ ابھی جاری ہو۔‘‘

جمعرات کو یہ فلم نمائش کے لیے سب سے پہلے بوسنیا ہی میں پیش کی گئی۔ جمعے کو یہ فلم اب امریکہ میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے۔ فلم ختم ہونے کے بعد باقی افراد چپ سادھے ہی سینما سے نکلتے چلے گئے، تاہم ان کے چہروں پر خوف اور دکھ کے سائے بہت سی ان کہی داستانیں سنا رہے تھے۔

Flash-Galerie UNHCR 60 Jahre Auswahl 1

جولی نے اس فلم کی پریمیئر سراجیوو میں کرنے کا اعلان کیا تھا

یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد اس سے سب خونریز واقعے نے یورپی معاشرے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

مِرہا نامی ایک اور خاتون نے فلم دیکھنے کے بعد کہا ، ’ یہ فلم بالکل ایک حقیقت جیسی ہے۔ میں کہوں گی، بہت اچھے۔ ہم اس جنگ سے گزرے ہیں، ہم ہی جانتے ہیں کہ اس وقت ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ بالکل ویسا احساس ہے، جیسا اس جنگ کے دنوں میں ہوتا تھا۔‘‘

کئی ہفتے قبل سراجیوو کے دورے کے دوران انجیلینا جولی نے اس فلم کا پریمیئر بوسنیا کے دارالحکومت سے کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ جولی کی بحثیت ڈائریکٹر پہلی فلم ہے۔ فروری سن 2012 ء میں انجیلینا جولی بوسنیا کا دوبارہ دورہ کریں گی، تب یہ فلم بوسنیا کے دیگر علاقوں اور خطے کے دوسرے ملکوں میں بھی پیش کی جائے گی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM