1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جولیا گیلارڈ آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم

جولیا گیلارڈ آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئی ہیں۔ حکمران لیبر پارٹی نے ڈرامائی انداز میں کیون رَڈ کی لیڈرشپ پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جولیا گیلارڈ کو اپنا نیا لیڈر تسلیم کیا۔

default

جولیا گیلارڈ نے جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف لیا اور اس طرح انہیں آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔

آسٹریلیا میں حکمران لیبر پارٹی کے اراکین نے حیران کن طور پر سابق وزیر اعظم کیون رڈ کی قیادت پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے ملک کی باگ ڈور ان کی نائب جولیا گیلارڈ کے ہاتھوں میں دینے کا ذہن بنا لیا۔

Australien / Rudd / Canberra

سابق وزیراعظم کیون رڈ

لیبر پارٹی کے نئے قائد کے انتخاب کے حوالے سے منعقدہ ایک میٹنگ میں ووٹنگ ہونی تھی۔ لیکن پارٹی کے ایک سو بارہ پارلیمان اراکین میں سے ایک نے بھی جولیا گیلارڈ کی قیادت کے خلاف انگلی نہیں اٹھائی اور اس طرح وہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنی جماعت کی نئی سربراہ بنی۔

کیون رڈ کو پہلے سے ہی اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ لیبر پارٹی میں تقریباً تمام ہی اراکین ان کے خلاف ہو گئے ہیں۔ اس لئے وہ دوبارہ پارٹی لیڈر کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہی نہیں ہوئے۔ یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ مسٹر رڈ کو اس حقیقت کا احساس ہو چکا تھا کہ بیشتر پارٹی ممبران کو ان کی لیڈرشپ منظور نہیں ہے اور یہ بھی کہ لیبر پارٹی کے اندر اُن کی مقبولیت میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔

کیون رڈ نے گیارہ برسوں تک اپوزیشن میں رہنے والی لیبر پارٹی کو سن 2007ء کے الیکشن میں جیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ محض تین سال قبل ہونے والے ان انتخابات میں کیون رڈ کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور وہ ایک ہیرو کے طور پر سیاسی منظر پر آئے تھے لیکن ابھی حال ہی میں ہونے والے جائزوں میں ان کی عوامی حمایت اور مقبولیت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

Australien / Rudd / Gillard

جولیا گیلارڈ ، کیون رڈ کے ہمراہ

آسٹریلیا میں چند ہی مہینوں بعد عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ بیشتر تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ نئی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ ملک کی خارجہ پالیسی، بالخصوص افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے، کوئی تبدیلی نہیں لائیں گی۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM