1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جولیان اسانج کی برطانیہ بدری: سماعت آج سے شروع

وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو پیر کو ایک برطانوی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے، جہاں وہ جج کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ انہیں سویڈن کے حوالے نہ کیا جائے۔

default

جولیان اسانج

جولیان اسانج کا کہنا ہے کہ جنسی جرائم کی عدالتی کارروائی کے لیے انہیں سویڈن کے حوالے کیا گیا، تو بالآخر انہیں امریکہ پہنچا دیا جائے گا، جہاں انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انتالیس سالہ آسٹریلوی کمپیوٹر ایکسپرٹ اسانج دراصل اپنی ویب سائٹ پر امریکہ کے ہزاروں خفیہ سفارتی پیغامات جاری کرتے ہوئے واشنگٹن حکومت کو ناراض کر چکے ہیں۔ وہ سویڈن میں مطلوب ہیں، جہاں وکی لیکس کی دو رضاکار خواتین نے ان پر جنسی طورپر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسانج ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

لندن کی عدالت میں پیر کو شروع ہونے والی سماعت دو روز تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر اسانج کے وکلاء جج ہوورڈ رِڈلے کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسانج کی ملک بدری کے لیے سویڈن کی درخواست مسترد کر دی جائے۔

سویڈن نے یورپی وارنٹ گرفتاری کے تحت اسانج کی ملک بدری کی درخواست کر رکھی ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ درخواست ردّ کیے جانے کا بہت زیادہ امکان نہیں، تاہم اسانج کے خلاف ثبوت کس قدر ٹھوس ہے، جج اس پر بھی غور نہیں کریں گے۔

اسانج کے وکلاء نے اپنے مقدمے کا ایک خاکہ انٹرنیٹ پر جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کے لیے وارنٹ گرفتاری ان کے سیاسی نظریات پر سزا کے طور پر جاری کیا گیا اور انہیں سویڈن کے حوالے کرنا دراصل امریکہ بھیجنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

Jahresrückblick international 2010 November Flash-Galerie

وکی لیکس ویب سائٹ پر امریکہ کے ہزاروں خفیہ سفارتی پیغامات شائع کیے گئے

دوسری جانب امریکی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ سفارتی پیغامات کی اشاعت پر اسانج پر مجرمانہ فعل کا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ ان پیغامات کو چرانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

جولیان اسانج کو گزشتہ برس برطانیہ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دسمبر میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد سے وہاں وہ اپنے ایک دوست کے ہاں قیام پذیر ہیں۔تاہم یہ ایک طرح کی نظربندی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس