1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جولیان آسانج: سویڈن بدری کا فیصلہ

برطانیہ کی ایک عدالت نے وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولیان آسانج کی اپیل خارج کرتے ہوئے انہیں سویڈن کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ آسانج سویڈن میں جنسی تشدد کے الزامات کے تحت مطلوب ہیں۔

جولیان آسانج

جولیان آسانج

خفیہ دستاویزات شائع کرنے والی معروف ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی سربراہ 40 سالہ جولیان آسانج کی سویڈن بدری کا یہ مقدمہ برطانیہ کی ایک عدالت میں زیر غور تھا۔ آسانج پر الزامات ہیں کہ انہوں نے سویڈن میں اپنی ویب سائٹ کے لیے رضاکارنہ طور پر کام کرنے والی دو خواتین پر جنسی حملہ کیا تھا۔

وکی لیکس نے امریکی سفارت کاروں کی طرف سے بھیجی جانے والی ڈھائی لاکھ کے قریب خفیہ دستاویزات گزشتہ برس شائع کی تھیں۔ ان دستاویزات کی اشاعت پر امریکی حکومت کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ مگر اس کے فوری بعد جنسی حملے کے حوالے سے الزامات نے آسانج اور وکی لیکس کی مقبولیت پر منفی اثرات مرتب کیے۔

اس مقدمے کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے برطانیہ اور سویڈن کے علاوہ میڈیا پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، آسانج

اس مقدمے کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے برطانیہ اور سویڈن کے علاوہ میڈیا پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، آسانج

ایک برطانوی جج نے آسانج کی سویڈن بدری کے حوالے سے درخواست رواں برس فروری میں منظور کی تھی، تاہم آسانج کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی۔ دو رکنی بینچ نے اس اپیل کو خارج کردیا ہے۔

جولیان آسانج کے وکیل کے مطابق سویڈن کی طرف سے جنسی حملوں کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ آسانج کے خواتین رضاکاروں کے ساتھ جنسی روابط باہمی افہام وتفہیم کی بنیاد پر تھے۔ سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا جولیان آسانج نے الزام عائد کیا ہے کہ اس مقدمے کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے برطانیہ اور سویڈن کے علاوہ میڈیا پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

لندن ہائیکورٹ کی طرف سے آسانج کو سویڈن کی حوالگی سے متعلق ان کی اپیل خارج کردی گئی ہے۔ تاہم اس عدالتی فیصلے کے خلاف آسانج دو ہفتوں کے دوران سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس