1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جورجیا میں ایمرجنسی‘

جورجیا میں گزشتہ کئی دنوں سے حذب اختلاف کی جانب سے احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ ان مظاہروں کو بحران قرار دیتے ہوئے صدر نے دارلحکومت میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

دارلحکومت طبلیسی میں مظاہرین

دارلحکومت طبلیسی میں مظاہرین

جورجیا کے دارلحکومت طبلیسی میں صدر میخائل ساکش ویلی نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اس طرح دارلحکومت میں جاری حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہرے بھی ختم ہو گئے اور وہاں قدرے خاموشی چھا گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی سیکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی ہے کہ روس کے زیر حمایت بغاوت کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن نے صدر ساکش ویلی پر بد عنوانی کا الزام لگایا تھا کہ جسے وہ مسلسل رد کرتے آرہے ہیں۔ اپوزیشن نے صدر ساکش ویلی سے استعٰفہ دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ مستعفیٰ نہیں ہونگے۔ صدر نے پہلے صرف 48 گھنٹوں کے لئے ایمرجنسی نافذ کی تھی لیکن بعد میں اس کو بڑھا کر پندرہ دن کر دیا گیا۔ جورجیا کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز کے مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی ۔ جس کے نتیجے میں 500 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ روس نے جورجیا کے طرف سے اپنے اوپر لگائے گئے تما م الزامات کی تردید کی ہے۔


Audios and videos on the topic