1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جوتوں پر’اوم‘ کی چھپائی، سندھ کے ہندووں کا احتجاج

سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں جوتوں کی ایک دکان میں ایسے جوتے فروخت کیے جا رہے ہیں جن پر ہندومت کا مقدس لفظ ’اوم‘ تحریر کیا ہوا ہے۔

سندھ کی ہندو کمیونٹی اس چھپائی پر احتجاج کر رہی ہے اور ایسے جوتوں کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا ہے جن پر لفظ ’اوم‘ موجود ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے، ’’گزشتہ تین برسوں سے ٹنڈو آدم کے کچھ دوکانداروں نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ عید کے موقع پر ہندو مذہبی لفظ ’اوم‘ کو جوتوں پر نمایاں کرکے فروخت کرتے ہیں، ایسی ناپسندیدہ حرکت کا مقصد مقامی ہندو آبادی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔‘‘

اس بیان میں پاکستان ہندوکونسل کے سرپرستِ اعلیٰ اور ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے ذمہ داران کے خلاف کڑی سزا کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پروہ تصاویر شئیر کی گئی ہیں جن میں ایک سینڈل پر لفظ ’اوم‘ تحریر ہے۔ کئی افراد نے کہا کہ ایسا کرنا پاکستان کے آئین کے خلاف ہے اور کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا خلافِ قانون ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے آج جاری کیے گئے بیان کے مطابق،’’ سندھ پولیس نےچھاپہ مارکر نہ صرف ٹنڈوآدم کے دکاندارکو گرفتار کرلیا ہے بلکہ لاہور کے موتی بازار میں واقع فروخت کنندہ کے خلاف ایکشن کے لیے پنجاب پولیس سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے وزیراعظم پاکستان سے توہین مذہب کے قانون کے تحت ذمہ داران کے خلاف کڑی سزا کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے ہندوؤں کے لیے مقدس لفظ ’اوم‘ کے جوتوں پر تحریر کیے جانے کی مذمت کی تھی۔ مریم نواز شریف نے بھی اس مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کا وعدہ کیا ہے۔

DW.COM