1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنیوا میں کشمیر کی آزادی کے پوسٹرز بسوں پر آویزاں

جنیوا میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر،ناگا لینڈ، مانی پور اور تری پورا کی آزادی کے پوسٹرز، میٹرو بسوں اور ٹرینوں پر لگے دیکھے گئے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری نیوز چینل پی ٹی وی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ تصاویر شیئر  بھی کی گئی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 36 واں اجلاس جاری ہے اور اس دوران شہر کی چند بسوں اور ٹراموں پر ان ریاستوں کی بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ہی سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر شئیر کی گئی تھیں جن میں جنیوا کی شاہراہوں پر ’فری بلوچستان‘ کے پوسٹرز لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بسوں پر بھی بلوچستان کی آزادی کے مطالبے کے اشتہار دیکھے گئے تھے۔ پاکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ پوسٹرز پاکستان میں کلعدم تنظیم ’بی ایل اے ‘ کی جانب سے لگائے ہیں۔

’آزاد بلوچستان‘ کے پوسٹرز، پاکستان کا سوئس حکومت سے احتجاج

پاکستان نے ان پوسٹرز پر سوئس حکومت سے احتجاج کیا تھا اور پاکستان میں تعینات سوئس سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر کو اپنے ملک کا حصہ تصور کرتے ہیں اور یہ متنازعہ خطہ اکثر دونوں ممالک میں کشیدگی کا باعث بنتا ہے۔ 23 ستمبر کو بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج  نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں  پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس ملک نے دنیا کو ’دہشت گرد‘ دیے ہیں جبکہ بھارت نے دنیا کو ’ڈاکٹرز اور انجینئرز‘ دیے ہیں۔ اس پر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے بھارتی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ کا بیان گزشتہ ستر سال سے پاکستان دشمن پالیسی ظاہر کرتا ہے۔  

 

DW.COM