1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنیوا میں تیسری عالمی ماحولیاتی کانفرنس

سوئٹزرلنیڈ کے شہر جنیوا میں پیر سے تیسری عالمی ماحولیاتی کانفرنس شروع ہو رہی ہے جس میں دنیا بھر سے اعلی سطح کے پالیسی ساز، سائنس دان، تاجر اور فیصلہ ساز حصہ لے رہے ہیں۔

default

ماحولیات کے موضوع پر اس پانچ روزہ کانفرنس کا اہتمام عالمی ادارہء موسمیات WMO نے کیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم اس سے پہلے بھی ایسی ہی دو کانفرنسوں کا اہتمام کر چکی ہے۔ ان میں سے پہلی کانفرنس سن 1979ء جبکہ دوسری کانفرسن 1990 ء میں منعقد کی گئی تھیں۔ ان کانفرنسوں کی کامیابی کے نتیجے میں نہ صرف اقوام متحدہ کی طرف سے تحفظ ماحول کے دفتر کا قیام عمل میں آیا بلکہ ماحولیاتی تحفظ کا ایجنڈا عوامی، سیاسی اور سائنسی حلقوں میں بھی عام ہوا۔ اس مرتبہ WMO کی کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب کوپن ہیگن میں تحفظ ماحول سے متعلق اقوام متحدہ کی بہت اہم قرار دی جانے والے عالمی کانفرنس کے انعقاد میں صرف تین ماہ باقی رہ گئے ہیں۔

WMO کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس کا متبادل نہیں ہے بلکہ اس کانفرنس میں وہ ایسی سفارشات ترتیب دیں گے جو کوپن ہیگن کانفرنس کے لئے مفید ہوں گی۔ سوئٹزرلینڈ کے وفاقی دفتر ماحولیات سے وابسطہ اور اس کانفرنس کی مجلس صدارت کے رکن خوسے رومیرو کہتےہیں: ’’اس تیسری عالمی کانفرنس کے دوران ماحولیاتی خدمات کے لئے ایک عالمی فریم ورک تیار کیا جائے گا ، یہ فریم ورک ماحولیاتی تحفظ کے لئے تیکنیکی مدد فراہم کرے گا۔ میرے خیال میں یہ فریم ورک رواں سال کے اواخر میں کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس کے لئے سود مند رہے گا۔ اس کے علاوہ یہی فریم ورک دیگر پالسی سازوں اور ان لوگوں کے لئے بھی فائد مند ہو گا جو ماحولیاتی تحفظ کے لئے کام کر رہے ہیں‘‘۔

Ilulissat Eisfjord

قطبی علاقوں میں بہت زیادہ برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے

عالمی موسمیاتی ادارے کے اس اجتماع کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کے دوران عالمی سیاسی منظر نامے پر ماحولیات سے جڑے مسائل کا روزمرہ کی زندگی سے ربط بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عالمی ماحول میں تبدیلی، کس طرح ایک عام کسان یا انسان پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

خوسے رومیرو کہتے ہیں: ’’اس کانفرنس کا مقصد ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے حوالےسے جو کام ہو رہا ہے، اسے ایک گلوبل نیٹ ورک میں سمو دیا جائے، تاکہ ماحولیات کے لئے مقامی سطح پر کام کرنے والے افرادکو ایسی معلومات فراہم کی جا سکیں جن سے وہ عملی سطح پر کام کرنے کے قابل ہو سکیں‘‘۔

جرمنی میں یونیورسٹی آف لائپزش کے پروفیسر اور ماہر موسمیات Gerd Tetzlaff کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس عالمی ماحولیات سے متاثر ہونے والے افراد کے لئے ایک اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ اس دوران ماہرین ماحولیات مل کر ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کریں گے جس کےتحت موسمی پیش گوئیوں کو سامنے رکھتے ہوئے عملی اقدا مات کو زیر بحث لایا جائے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک