1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنیوا میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران اور چھ طاقتور ترین ممالک کے درمیان اہم مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ختم ہوگیا ہے۔ مذاکرات میں سلامتی کو نسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے بھی شرکت کی۔

default

ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے یورینیم کی افزودگی کے ایک نئے ری ایکٹر کی موجودگی کے انکشاف کے بعد ان مذاکرات کوبہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔

ایرانی وفد میں شامل ایک اہم رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ایران ان مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتا ہے۔ تاہم مذاکرات سے قبل ایرانی وفد کے سربراہ سعید جلیلی نے اپنے ایک بیان میں عندیہ ظاہر کیا ہے کہ ایران پرامن ایٹمی توانائی کے حصول کے اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

IAEA-Fahne vor Büro in Wien

ایران کی طرف سے ایک اور ایٹمی ری ایکٹر کی موجودگی کی خبر کے سامنے آنے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے 26 ستمبر کو ہونے والی جی ٹونٹی کانفرنس میں ایران کو واضح پیغام دیا تھا کہ اسے اپنے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے آج ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا تھا:

"اس میٹنگ میں ایران کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی IAEA سے تعاون کے لئے مکمل طور پر تیار رہنا چاہیے۔ تاکہ اس کے ایٹمی پروگرام کو شفاف بنانے اور اس پر بین الاقوامی برادری کا اعتماد بڑھانے کے لئے واضح اقدامات کئے جاسکیں۔ اس کے علاوہ ایران کو بامقصد مذاکرات اور تعاون کے ذریعے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔"

دوسری طرف فرانس کے وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر روسی رہنماؤں سے ملاقات کے لئے ماسکو میں ہیں۔ انہوں نے ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام کے لئے افزودہ یورینیم کسی دوسرے ملک سے حاصل کرنے کی تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اسی ہفتے کہا تھا کہ جمعرات کے روز ہونے والے اہم مذاکرات میں ایران یہ تجویز پیش کرے گا کہ اسکے تحقیقی ایٹمی ری ایکٹر کے لئے افزودہ یورینیم کوئی دوسرا ملک فراہم کرے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جنیوا مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے، "یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ایران کو پابندیوں کے لئے تیار رہنا چاہئے اور مجھے خوشی ہے کہ اب روس بھی ان پابندیوں کا حامی ہے۔"

اس سے قبل تہران کی جانب سے ایک اعلان میں کہا گیا کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو یورینیم کی افزودگی کے اس مرکز کے معائنے کی اجازت دینے کو تیار ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ایسا کب کرے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ جنیوا ملاقات سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو گی۔

سلامتی کونسل کے مستقل ارکان برطانیہ، فرانس اور امریکہ ایرانی ایٹمی پروگرام پر بات چیت میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں سخت ترین پابندیوں کے حق میں ہیں۔ روس کی طرف سے بھی ایران پر پابندیوں کی مخالفت میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم چین کا موقف ہے کہ ایران پر دباؤ میں اضافہ موثر ثابت نہیں ہو گا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی