جنید جمشید کو بچھڑے آج ایک برس بیت گیا | معاشرہ | DW | 07.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنید جمشید کو بچھڑے آج ایک برس بیت گیا

شوبز کی چکا چوند کو خیر باد کہنے کے بعد اپنی خوبصورت آواز نعتوں کے لیے وقف کر دینے والے جنید جمشید گزشتہ برس سات دسمبر کو ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے۔

باون سالہ جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال سے اسلام آباد آ رہے تھے کہ راستے میں حویلیاں کے قریب یہ مسافر طیارہ PK-661 گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں مسافر طیارے میں سوار مسافروں اور عملے سمیت تمام اڑتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 

جنید جمشید کی آج پہلی برسی کے موقع پر ملک بھر میں ان کے چاہنے والے ان کی یاد کرتے ہوئے اپنے پیغامات سوشل میڈیا پر شئیر کر رہے ہیں۔

جنید جمشید کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے والے  پاکستانی ٹی وی کے ایک اینکر وسیم بادامی اپنی ٹوئیٹ میں لکھا:

سابق کرکٹر ثقلین مشتاق بھی ایک ٹوئیٹ میں اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’وہ حادثہ جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا، آج اسے ایک سال بیت گیا ہے۔ جو نقصان ہم نے برداشت کیا ہے وہ ایک سانحے سے کم نہیں۔ میں نے اس حادثے میں اپنے دو دستوں کو گنوا دیا۔‘‘

ہر دلعزیز جنید جمشید نے میوزک بینڈ وائٹل سائنز کے گیت’دل دل پاکستان‘ سے شہرت حاصل کی۔ ہر دور میں بڑے اور بچوں ے لبوں پر رچنے بسنے والے اس ملی نغمے نے پاکستانی عوام کے دلوں میں وہ جگہ بنائی جو بہت کم ملی نغمے بنا سکے۔

جنید جمشید کے کئی مداحوں میں سے ایک، سعد اویس لکھتے ہیں، ’’دل دل پاکستان سے ’میرا دل بدل دے‘۔ جنید جمشید کی کمی شدد سے محسوس کی جا رہی ہے۔‘‘

اس وقت صرف سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والے ہی اپنے غم کا اظہار نہیں کر رہے بلکہ میڈیا کے کئی اداروں نے اس موقع پر خصوصی پروگرام چلائے۔

جنید جمشید کی وفات: مشہور پاکستانی شخصیات کا اظہار افسوس

پاکستان طیارہ حادثہ: تمام مسافر ہلاک، لاشیں ناقابل شناخت

 

DW.COM