1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’’جنہیں ملک بدر نہیں کرنا چاہیے، انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے‘‘

جرمنی نے سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزاروں کی ملک بدری کے اقدامات میں تیزی پیدا کر دی ہے، تاہم جنوبی جرمنی کے ایک شہر کے قدامت پسند میئر کے مطابق ملک بدر انہیں کیا جا رہا ہے، جنہیں ملک بدر نہیں کیا جانا چاہیے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین سے وابستہ رہنما اور شویبلِش گمیوڈ شہر کے میئر رچرڈ آرنلڈ نے کہا کہ مہاجرین کی ملک بدریوں کے سلسلے میں مختلف جرمن صوبوں میں ایک طرح سے مقابلہ جا ری ہے۔ ’’میرے خیال میں یہ تارکین وطن کے حوالے سے عمومی خیال کو سامنے رکھتے ہوئے اور بہت تیزی سے کیا جا رہا ہے۔ اس وقت جرمنی میں دو لاکھ تیرہ ہزار ایسے افراد ہیں، جنہیں ملک بدر کیا جانا ہے اور ان میں سے کئی ایسے ہیں، جو قریب چار برس قبل یہاں آئے تھے اور معاشرے میں نہایت اچھے طریقے سے گھل مل چکے ہیں۔ مگر اب انہیں ملک بدر کیا جانا ہے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی تفریق ہی روا نہیں رکھی جا رہی۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا اب تک بہت زیادہ افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے، یا بہت کم، آرنلڈ کا کہنا تھا، ’’غلط افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔‘‘

Demonstration gegen Abschiebung von Flüchtlingen Maghreb Staaten Demo (picture alliance /dpa/M.Balk)

جرمنی سے تارکین وطن کی ملک بدری تیز ہو گئی ہے

انہوں نے کہا کہ جب افراد کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے، ان میں سے زیادہ تر جرمنی میں اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ ’’یہ ملک بدریاں انہیں متاثر کر رہی ہیں، جو جرمنی میں تعلیم اور تربیت حاصل کر چکے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’ملک بدر کیے جانے والے افراد میں وہ بھی شامل ہیں، جو جرمن معاشرے میں بہت اچھے طریقے سے گھل مل چکے ہیں، ریاستی ہیلتھ انشورنس اور پینشن میں اپنا حصہ ملا رہے ہیں اور ریاست سے مدد نہیں لے رہے۔ مثال کے طور پر کچھ عرصے قبل ایک تعمیراتی شعبے کا ایک فرد میرے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ اس کے لیے کام کرنے والے نائجیریا سے تعلق رکھنے والے سیاسی پناہ کا ایک متلاشی نہایت عمدہ کاریگر تھا۔ گزشتہ روز اسے سیاسی پناہ کے رد ہو جانے سے متعلق حکم نامہ موصول ہوا ہے اور کمپنی ایک اچھے کاریگر سے محروم ہو رہے ہیں۔‘‘

آرنلڈ نے کہا کہ ایسے افراد کو یہاں رہنے اور زندگی گزارنے کی اجازت دی جانا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا بہت طویل عرصہ جرمنی میں رہ لینے سے سیاسی پناہ کی درخواست کی قبولیت کے امکانات میں کوئی اضافہ یا ایسے افراد کے لیے کوئی آسانی پیدا ہو سکتی ہے، آرنلڈ نے بتایا کہ جب تک کسی شخص کی سیاسی پناہ منظور نہیں ہوتی اور یہ طے نہیں ہو جاتا کہ اس کی زندگی کو اس کے آبائی ملک میں خطرہ ہے، اس وقت تک جرمنی میں رہنے کا وقت گنا ہی نہیں جاتا۔ ’’ہمیں ایسے افراد کو جو بہت اچھے انداز سے جرمن معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں، ملک سے نہیں نکالنا چاہیے۔‘‘