1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جنگ و جدل سے بے گھر پينسٹھ ملين افراد کو کوئی پناہ دينے کو تيار نہيں

اقوام متحدہ کی رکن رياستوں نے عالمی تنظيم کے ايک ايسے منصوبے کو مسترد کر ديا ہے جس ميں دنيا بھر ميں موجود پناہ گزينوں کی مجموعی تعداد ميں سے ہر سال دس فيصد افراد کو رکن ممالک ميں منتقل کرنے کی تجويز پيش کی گئی تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرين کے بد ترين بحران کے تناظر ميں اقوام متحدہ نے عالمی سطح پر  پائے جانے والی پناہ گزينوں کی مجموعی تعداد  میں سے دس فيصد کو ہر سال مختلف رکن ممالک ميں باقاعدہ قانونی طور پر منتقل کرنے کی تجويز پيش کی تھی۔ تاہم رکن رياستوں نے اس تجويز کو مسترد کر ديا ہے۔ رواں سال انيس ستمبر کو  امريکی شہر نيو يارک ميں مہاجرين کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایما پر ايک اہم سمٹ منعقد ہو رہی ہے جس میں سيکرٹری جنرل بان کی مون کی اس  تجويز کوکليدی اہميت حاصل ہوگی۔  البتہ منگل کو منظور ہونے والے منصوبے سے مہاجرين کی ’ری سيٹلمنٹ‘ کی شقيں مکمل طور پر خارج کر دی گئيں۔ منظور ہونے والی حتمی دستاويز ميں پناہ گزينوں کی ذمہ داری بانٹنے سے متعلق مجوزہ ڈيل کا کوئی ذکر تک نہيں جبکہ ہجرت پر آئندہ برس بات چيت شروع کرنے کا اور سن 2018 تک اس پر عملدرآمد کا کہا گيا ہے۔

انسانی حقوق سے منسلک تنظيموں نے مايوسی کا اظہار کرتے ہوئے منظور ہونے والے سمجھوتے کو ’بے معنی سياسی اعلاميہ‘ قرار ديا ہے اور ساتھ ساتھ خبردار کيا ہے کہ ستمبر ميں ہونے والا سربراہی اجلاس بے مقصد ثابت ہو سکتا ہے۔ ايمنسٹی انٹرنيشنل سے وابستہ شارلٹ فلپس نے اس بارے ميں بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’مہاجرين کے بحران کا عالمی حل تلاش کرنے کے ليے ريفيوجی سمٹ ايک تاريخی موقع تھا تاہم عالمی رہنماؤں نے اس بارے ميں سمجھوتے کے کسی بھی امکان کو سن 2018 تک دھکيل ديا ہے۔‘‘

دوسری جانب سربراہی اجلاس کے ليے بان کی مون کی مشير کارن ابو زيد نے منظور ہونے والے سمجھوتے پر خوشی کا اظہار کيا اور آئندہ برس کسی نئے معاہدے پر بات چيت کے آغاز کے اعلان کو خوش آئند قرار ديا۔

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون نے تجويز  یہ تھی کہ مہاجرين کے موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کے ليے ’ذمہ داری بانٹے کا ايک عالمی معاہدہ‘ تشکيل ديا جائے اور ہجرت کے موضوع پر ايک اور معاہدہ طے کرنے کے ليے باقاعدہ مذاکرات شروع کيے جائيں۔ مسودے ميں لکھا تھا کہ مہاجرين کی قانونی راستے سے دوسرے ممالک منتقلی بڑھائی جائے گی۔ اس وقت عالمی سطح پر تقريباً پينسٹھ ملين افراد ايسے ہيں، جو جنگ و بحران سے متاثر ہو ئے ہيں۔ بان کی مون نے يہ تجويز مئی ميں سامنے رکھی تھی۔

اس تجويز  کی مخالفت کرنے والوں ميں امريکا يورپی يونين، روس، چين اور بھارت شامل ہيں۔