1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنگ نے یمنی شہروں کو ویران کر دیا

یمن میں حوثی شیعہ ملیشیا کی عسکری کارروائیوں کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کے فضائی حملوں سے سارا ملک اجڑ گیا ہے۔ تقریباً سبھی شہر انتہائی بڑی تباہی سے دوچار ہوئے ہیں۔

آج کل یمنی شہروں اور بڑے قصبوں میں پھٹے ہوئے بموں کے خالی حصے، تباہ شدہ ٹینک اور ہر طرف تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ نظر آتا ہے۔ جنوبی یمن کے کم و بیش سبھی شہر ایسی تباہی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اب شمالی یمن میں فضائی کارروائیوں اور زمینی دستوں کی ممکنہ جنگ ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یمنی دارالحکومت کو فضائی حملوں کا تقریباً روزانہ کی بنیاد پر سامنا ہے اور اسلامک اسٹیٹ کے خود کُش حملے بھی تباہی و بربادی میں اپنا حصہ شامل کر رہے ہیں۔

جنوبی یمن کے تین بڑے شہروں عدن، تعِز اور سعدہ کو فضائی حملوں نے تباہ کیا اور پھر گلیوں میں ہونے والی شدید مسلح جھڑپوں نے رہی سہی کسر نکال دی۔ ان شہروں کے کئی علاقے شدید تباہی کے بعد بیابانی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اِن حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال نے پہلے سے غربت اور کمزور معاشی حالات کا سامنا کرنے والے ملک یمن کو انسانی المیے کے علاوہ وہاں لوگوں کے لیے ایک نئی زندگی کی شروعات کے سنگین بحران کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اِس مناسبت میں اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان بیٹینا لُوشر کا کہنا ہے کہ یمن دنیا کی انتہائی خراب حالات سے دوچار سرزمین ہے۔

تقریباً دو ماہ سے بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہی شہر عدن میں جنگی حالات کا بظاہر خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس شہر میں حوثی شیعہ ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوجیوں کو سعودی اتحاد کے فضائی حملوں نے کمزور کیا اور پھر صدر منصوری ہادی کی حامی ملیشیا نے انہیں شہری حدود سے پسپا کر دیا۔

آج کل عدن کے ہوائی اڈے پر بڑے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے سی ون تھرٹی (C130) تواتر سے خلیجی ریاستوں سے امدادی سامان کی رسد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عدن میں جنگ بند ہونے کے بعد بیدخل ہونے والے خاندان آہستہ آہستہ لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب صنعاء کا ہوائی اڈہ سعودی اتحادیوں کے جنگی طیاروں کے حملوں کو برداشت کر رہا ہے۔

Symbolbild Rotes Kreuz in Aden, Jemen

عدن کے ہوائی اڈے پر اترنے والا ریڈ کراس کا ہوائی جہاز

یمنی بندرگاہی شہر عدن کے قریبی سمندر میں بھی سامان بردار بحری جہاز لنگر انداز ہونے کے انتظار میں سمندری لہروں کے ساتھ ہچکولے کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی اتحادیوں نے سمندری ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے اور اِس باعث بھی امدادی سامان والے بحری جہازوں کو شناخت اور بسا اوقات تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بحری جہازوں پر زیادہ تر خوراک، ادویات اور خیمے لدے ہوتے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان بیٹینا لُوشر کے مطابق یمن کے بائیس میں سے دس انتظامی صوبے خوراک کی شدید کمیابی کا شکار ہیں اور ان علاقوں میں ہنگامی بنیاد پر امدادی سامان پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جنوبی یمن کے تباہ شدہ شہروں اور قصبات میں ہُو کا عالم تھا لیکن اب اِن شہروں سے جنگ شمال کی جانب منتقل ہونے سے زندگی کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔