1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جنگ زدہ علاقوں میں طبی سہولیات کو نقصان پہنچانے کا رجحان، ریڈ کراس

انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جاری لڑائیوں میں ہسپتالوں، طبی کارکنوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کے باعث بیماروں اور زخمیوں کے علاج میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

default

آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر جنرل Yves Daccord نے جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا، ’’سری لنکا اور صومالیہ میں ہسپتالوں پر گولہ باری کی گئی ہے، کولمبیا میں نیم طبی عملے کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور افغانستان میں زخمی افراد سکیورٹی چوکیوں پر گاڑیاں روکے جانے کے سبب کئی گھنٹوں تک انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ہسپتالوں پر حملے کیے جاتے ہیں، ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور اب یہ کسی بھی مسلح تنازعے میں معمول کی بات لگتی ہے۔

’صحت کی سہولیات خطرے سے دوچار: حقیقی صورت حال‘ نامی رپورٹ میں ریڈ کراس نے سن 2008 سے سن 2011 کے آغاز تک 16 ملکوں میں 655 متشدد واقعات ریکارڈ کیے، جن میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو روکا گیا۔ ان میں سے اکثر واقعات میں ایسا قصداﹰ کیا گیا اور یوں بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

Afghanistan Anschlag Krankenhaus Juni 2011

جنگ زدہ علاقوں میں اکثر لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ ایمبولینس بروقت نہیں پہنچ پاتی یا پھر طبی کارکنوں کو کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے

ان حملوں میں مجموعی طور پر 1,834 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں سے 159 طبی کارکن تھے۔ اس کے علاوہ 128 طبی کارکنوں کو اغوا کیا گیا اور 32 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

آئی سی آر سی کی تحقیق میں مرکزی کردار ادار کرنے والے برطانوی جنگی سرجن ڈاکٹر رابن کوپ لینڈ نے کہا، ’’اکثر لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ ایمبولینس بروقت نہیں پہنچ پاتی یا پھر طبی کارکنوں کو کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔‘‘

تشدد اور اکثر اس کے ساتھ ہونے والی لوٹ مار کا مطلب ہے کہ ڈاکٹر اور نرسیں اپنی ملازمتیں چھوڑ جاتے ہیں، ہسپتالوں میں ادویات یا جنریٹر چلانے کے لیے ایندھن ختم ہو جاتا ہے اور حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہمیں ترک کر دی جاتی ہیں۔

ان کے نتیجے میں جنگ زدہ علاقوں میں پھوٹنے والی بیماریوں مثلاﹰ پولیو یا ہیضہ کے باعث مریض زیادہ خطرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

لیبیا کے صحت کے شعبے میں بہت سے غیر ملکی کارکن کام کرتے تھے جو جنگ کے بعد وہاں سے نکل گئے۔ مصراتہ اور بن غازی کے ہسپتالوں میں اب عملے کی شدید کمی ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں پھنس جانے والے شہری

جنیوا کنونشن کے تحت عام شہری یا فوجی سے قطع نظر زخمی اور بیمار افراد کو فوری طبی امداد دینی چاہیے۔ تاہم دنیا کی اکثر افواج اور باغی اس مسلمہ ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

آئی سی آر سی چوکیوں پر ایمبولینسوں کا سرعت سے معائنہ کرنے میں مدد کے لیے فوجیوں کو تربیت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس بارے میں انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل اِیو داکورد نے کہا، ’’ایمبولینس کا معائنہ کرنے میں 5 منٹ لگتے ہیں اور یہ کوئی 5 گھنٹوں کا کام نہیں ہے۔‘‘

Soldaten der Al-Shabab-Miliz vor Mogadischu

صومالیہ سمیت کئی ملکوں میں ہسپتالوں، طبی کارکنوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتالوں کو ہتھیار ذخیرہ کرنے یا حملے کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جن میں فلسطینی علاقوں کے طبی مراکز بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سن 2008 اور سن 2009 میں غزہ پر اسرائیلی چڑھائی کے دوران بھوک پیاس سے نڈھال چار بچے اپنی ماؤں کی لاشوں کے پاس بیٹھے ہوئے ملے حالانکہ بمباری کو چار روز گزر چکے تھے مگر اسرائیلی فورسز نے ایمبولینسوں کو متاثرین تک پہنچنے سے روک رکھا تھا۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں دسمبر 2009 میں ایک یونیورسٹی کی تقریب کے شرکاء پر ہونے والے خودکش حملے میں 22 میڈیکل گریجویٹ ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ سال اپریل میں افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں طالبان عسکریت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی ایک ایمبولینس سے پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے 22 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM