1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنگ زدہ عراق کی بحالی کے لئے جرمنی کی کوششیں

جرمنی اور فرانس یورپ کے دو ایسے ممالک ہیں جنہوں نے عراق پر امریکی حملے کی حمایت نہیں کی تھی۔ بغداد حکومت ملک سے اتحادی افواج کے انخلا کی منتظر ہے تو یہی دو ممالک ہیں جوعراق کی تعمیر نو میں معاونت کے لئے آگے بڑھے ہیں۔

default

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹرشٹائن مائر

گزشتہ ہفتے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے عراق کا دورہ کیا تھا اور آج منگل کے روزجرمنی کے وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر اسی مقصد کے لئے بغداد پہنچے ہیں۔

گزشتہ 22 برس میں کسی جرمن وزیرخارجہ کا یہ پہلا دورہ عراق ہے۔ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو فرانک والٹر شٹائن مائر جرمنی کے چیف آف اسٹاف تھے اور چانسلر گیرہارڈ شروئڈر کی حکومت نے اس امریکی اقدام کی مخالفت کی تھی۔

Staatsbesuch Sarkozy im Irak mit Präsident Jalal Talabani

فرانسیسی صدر کے دورہ عراق کے موقع ہر عراقی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کا منظر

شٹائن مار کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور باہمی روابط کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ عراق اور خطے کی صورتحال پر غورکرنا بھی ہے۔ بغداد روانگی سے قبل جرمن وزیر خارجہ نے عراق میں صحت و تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کرنے کا ارادہ ظاہر کیا: "ہم عراقی نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کا راستہ کھولنا چاہتے ہیں اور انہیں جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔"

عراق پر امریکی حملے سے قبل برلن اور بغداد حکومت کے درمیان اقتصادی تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔ اس حوالے سے مشرق وسطیٰ میں جرمن صنعتی اداروں کی فیڈریشن کے سربراہ اشٹیفن بیحین کہتے ہیں:

"عراق کے تیل و گیس کے شعبوں کے ساتھ ساتھ جرمنی کی دلچسپی بنیادی ڈھانچے کی بحالی، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں بھی ہے۔ "

شٹائن مائر نے آج بغداد پہنچنے پر عراقی صدر جلال طالبانی سے ملاقات کی۔ وہ وزیر اعظم نورالمالکی اور وزیر خارجہ ہوشیار زبیری سے بھی ملاقات کریں گے۔ وہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال کا جائزہ بھی لیں گے۔ اس حوالے سے مسیحی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے عراقی رہنماؤں سے بھی ان کی ملاقاتیں طے ہیں۔

Staatsbesuch Sarkozy im Irak mit Präsident Jalal Talabani

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور عراقی صدر جلال طالبانی

عراق کی مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے جرمنی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یورپی یونین نے جرمنی کے ایما پر ہی دس ہزار عراقی پناہ گزینوں کو یورپی ممالک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 2500 عراقی مسیحیوں کوجرمنی میں آباد کیا جائے گا۔

عراق روانگی سے قبل شٹائن مائر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بغداد حکومت نے حالیہ مہینوں میں ملک میں استحکام کے لئے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق جمہوریت اور مذہب و قومیت کے درمیان پرامن توازن کی جانب بڑھ رہا ہے ۔

جرمن تاجروں کا ایک وفد بھی شٹائن مائر کے ساتھ ہے۔ کردش ذرائع ابلاغ نے توقع ظاہر کی ہے کہ جرمن وزیر خارجہ اربل میں جرمن قونصل خانے کی بنیاد رکھیں گے۔

اُدھر عراقی وزیر اعظم نورامالکی نے ایک جرمن روزنامہ کے ساتھ انٹرویو میں جرمنی کی کمپنیوں کو عراق میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ عراق نے گزشتہ برس دسمبر میں جرمن کمپنی سیمنز کے ساتھ ملک میں بجلی کے یونٹس قائم کرنے کے لئے دو بلین ڈالر کا ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔

جرمنی کے سفارتی ذرائع نے اس بات کا اعلان گزشتہ برس کیا تھا کہ وزیر خارجہ شٹائن مائر رواں برس مارچ کے آخر میں عراق جائیں گے جس کا مقصد نئے امریکی صدر باراک اوبامہ کے لئے حمایت کا اعلان کرنا ہوگا جو عراق سے امریکی فوج کا تیز تر انخلا چاہتے ہیں۔