1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنگی ہیلی کاپٹروں کی خریداری، روس اور پاکستان میں مذاکرات

پاکستان روس سے جنگی ہیلی کاپٹر خریدنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ دو ماہ کے دوران ان دونوں ملکوں میں کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ قبل ازیں روس نے امریکا کے اتحادی پاکستان کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پاکستان، روس سے ایم آئی 35 جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان میں دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں آئندہ دو ماہ کے اندر اندر کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ پیر کے روز ان کا چند صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مجھے امید ہے کہ ہم دو ماہ کے اندر اندر حتمی معاہدہ طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

پاکستان اور روس نے گزشتہ برس اگست میں یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان جنگی ہیلی کاپٹروں سے متعلق مذاکرات کا آغاز کریں گے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین دفاعی نوعیت کا یہ پہلا بڑا معاہدہ تھا۔

روس اور امریکا کے مابین سرد جنگ اور اسی کی دہائی میں افغان جنگ کے بعد روس نے امریکا کے اتحادی پاکستان کو کسی بھی قسم کے فوجی ہتھیار بیچنے پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن ان دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تعلقات میں بہتری سن 2014 سے آنا شروع ہوئی ہے۔ سن 2014 کے مہینے نومبر میں ان دونوں ملکوں نے دو طرفہ دفاعی تعاون اور فوجی تعلقات میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تنویر حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے تعاون سے جے ایف تھنڈر جنگی طیارے تیار کر چکا ہے اور یہ طیارے بھی ملک کی تمام تر دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایٹڈ پریس( اے پی پی)سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نے بتایا کہ جے ایف تھنڈر جنگی طیاروں میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں، جو کسی بھی جدید لڑاکا طیارے میں موجود ہوتی ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سرفہرست ہے، جو جے ایف تھنڈر جنگی طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ابھی کل تیس مئی کو روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ سن 2020 تک اپنے دفاعی پیدوار کے شعبے میں ایک ٹریلین روبلز سے زائد رقم خرچ کرے گا۔ یہ رقم امریکی ڈالرز میں سترہ بلین کے قریب بنتی ہے۔ یہ اعلان روس کے نائب وزیراعظم ڈمیٹری روگزین کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ روس اس وقت دنیا میں اسلحے کا دوسرا بڑا ایکسپورٹر ہے اور دفاعی پروڈکشن پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی اداروں کے مطابق اگلے برسوں میں روس اپنی یہ پوزیشن برقرار رکھے گا۔