1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنگوں سے صرف تباہی ہوتی ہے، اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل

پرتگال کے انٹونیو گوٹیریش نے آج سے اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں اپنے ہاتھوں میں لے لی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے بیان میں دنیا بھر ميں قيام امن کی بات کی۔

انٹونیو گوٹیریش نے دنیا بھر کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ نئے سال کے موقع پر مشترکہ طور پر یہ ارادہ کریں کہ قیام امن کو اوّلین ترجیح دی جائے گی، ’’جنگ کوئی بھی نہیں جیتا۔ اربوں ڈالر معاشرے اور اقتصادیات کو تباہ کرنے پر خرچ کر دیے جاتے ہیں۔ خوف اور بداعتمادی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے، جو کئی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔‘‘ گوٹیریش نے مزید کہا کہ جنگوں کی وجہ سے پورے پورے خطے غیر مستحکم ہو جاتے ہیں اور اس طرح عالمی دہشت گردی کے نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ’’اس کے برعکس امن ہماری منزل ہونی چاہیے اور امن کے قیام کا انحصار ہم پر ہے۔‘‘

گوٹیریش نے اپنے خطاب میں اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ تنازعات میں الجھے ہوئے ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پُل کا کردار ادا کریں گے۔ ابھی گزشتہ دنوں کے دوران نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے حوالے سے کچھ مخالفانہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس تناظر میں ان کا کہنا تھا،’’ تمام حکومتوں کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کروں گا اور یقیناً امریکا کی نئی حکومت کو بھی۔ تاکہ اُن مسائل  کا حل نکالا جائے، جن کا ہمیں مشترکہ طور پر سامنا ہے۔‘‘

USA Abschied des Generalsekretärs Ban Ki-moon

 گوٹیریش نے جنوبی کوریا کے سابق سفارت کار بان کی مون کی جگہ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کا منصب سنبھالا ہے

گوٹیریش نے ایک ایسے موقع پر یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جب دنیا کو شام، یمن، جنوبی سوڈان اور لیبیا ميں جاری مسلح تنازعات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے عالمی بحرانوں کا بھی سامنا ہے۔ اس صورتحال میں اگر امریکا کی نئی حکومت نے اس عالمی ادارے کا ساتھ نہ دیا تو گوٹیریش کو اگلے پانچ برسوں کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 گوٹیریش نے جنوبی کوریا کے سابق سفارت کار بان کی مون کی جگہ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کا منصب سنبھالا ہے۔ گوٹیریش سن 1995 سے سن 2002 تک پرتگال کے وزیر اعظم تھے اور اس طرح وہ اقوام متحدہ کے ایسے پہلے سیکرٹری جنرل ہیں، جو کسی بھی ملک کے سربراہِ حکومت بھی رہ چکے ہیں۔ گوٹیریش کے مطابق،’’آئیے مل کر 2017ء کو ایک ایسا سال بنائیں، جس میں ہم عوام، حکومتیں اور سربراہ مل کر اپنے اختلافات بھلانے اور ختم کرنے کی کوشش کریں۔‘‘ 67 سالہ گوٹیریش نے بارہ دسمبر کو اس عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔