1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جنگل کے لاوارث بچوں کے لیے قیامت کی رات‘

فرانسیسی حکام کا دعویٰ ہے کہ بدھ کے دن کیلے کا مہاجر کیمپ خالی کرا لیا گیا تھا تاہم امدادی اداروں کے مطابق اس بدنام زمانہ مہاجر کیمپ سے انخلاء کے بعد پہلی رات درجنوں بچوں کو سونے کا بستر نصیب نہ ہوا۔

بین الاقوامی امدادی ادارے ڈاکٹرز ودآؤٹ باڑرز‘ (ایم ایس ایف) کے ترجمان سیموئل ہانریون کے مطابق اس کیمپ کے بچے پریشان رہے کہ اب وہ اس عارضی رہائش گاہ کی تباہی کے بعد اپنی پہلی رات کہاں گزاریں گے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق کم از کم دو سو بچوں کو گزشتہ رات سونے کے لیے کوئی مناسب جگہ دستیاب نہ ہو سکی۔

کیلے کا مہاجر کیمپ بالآخر خالی کرا لیا گیا

'سیو دی چلڈرن ‘ جنگل کے تنہا بچوں کے بارے میں فکر مند

’جنگل‘ سے مہاجرین کا انخلاء شروع

کیلے کے مہاجر کیمپ کی مسماری کی مہم سے قبل ہی لاوارث مہاجر بچوں کے لیے ایک کنٹینر میں رہائش کا انتظام کر لیا گیا تھا تاہم وہاں زیادہ رش ہونے کی وجہ سے درجنوں بچوں کو جگہ دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس شیلٹر ہاؤس میں پندرہ سو ایسے مہاجر بچوں کو رہائش فراہم کی گئی ہے، جو مہاجرت کے اس سفر میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے بچھڑ چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امدادی اداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بچوں کے لیے بنائے گئے اس کنٹینر کیمپ میں مزید بچوں کو رہائش فراہم کرنے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ ایک امدادی ادارے کے سربراہ پیئر ہنری نے بتایا کہ چالیس لاوارث مہاجر بچوں کو جمعرات کے دن برطانیہ منتقل کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے بھی لندن حکومت نے دو سو ایسے ہی بچوں کو پناہ دی تھی۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ایسے تمام مہاجر بچوں کو برطانیہ روانہ کر دیا جائے گا، جن کے بارے میں پختہ شواہد مل جائیں گے کہ ان کے عزیز یا رشتہ دار وہاں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ اور کئی امدادی اداروں نے بچوں کے مستقبل کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدموں سے دوچار بچوں کو فوری طور پر مناسب توجہ دی جانا چاہیے۔

دوسری طرف ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بدھ کی رات کو ہی تقریبا سو مہاجرین دوبارہ کیلے کے مہاجر کیمپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فرانسیسی حکام کی طرف سے اس کیمپ کی مسماری کے وقت سکیورٹی فورسز اور مشتعل مہاجرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی مہاجرین نے اس کیمپ میں آگ بھی لگا دی تھی۔

گزشتہ روز کے حتمی آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے مہاجرین کو وہاں سے فوری طور پر نکل جانے کا حکم دیا تھا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنا سازوسامان چھوڑ کر ہی اس کیمپ سے نکل گئے تھے۔ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے اس عارضی مہاجر کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین آباد تھے، جن میں سے زیادہ تر برطانیہ جانے کے خواہشمند تھے۔

Calais Räumung (picture-alliance/AP Photo/T. Camus)

اس کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کو ملک بھر میں بنائے گئے مختلف استقبالیہ سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے

اس کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کو ملک بھر میں بنائے گئے مختلف استقبالیہ سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے وہ پناہ کی درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ فرانسیسی حکام پہلے بھی اس کیمپ کو خالی کرانے کی متعدد کوششیں کر چکے تھے لیکن انہیں اس مقصد میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ اس کیمپ میں آباد زیادہ تر مہاجرین کا تعلق افغانستان اور افریقی ممالک سے تھا۔ اطلاعات کے مطابق چھ تا آٹھ ہزار مہاجرین اور تارکین وطن نے اس کیمپ میں بسیرہ کر لیا تھا۔

DW.COM