1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جنگل مہاجر کیمپ کی بندش کی صورت میں برطانیہ دیوار تعمیر نہ کرے، فرانس

فرانسیسی بندرگاہی شہر کیلے کی مئیر نتاشا بوشارٹ نے کہا ہے کہ اگر ’جنگل ‘ مہاجر کیمپ کو بند کر دیا جاتا ہے تو برطانیہ کو حسب وعدہ وہاں دیوار تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں۔

Calais Natacha Bouchart Frankreich Bürgermeisterin

بوشارٹ کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی دیوار مہاجر کیمپ کے بند ہو جانے کے بعد غیر ضروری ہو گی

فرانس کی مئیر کا یہ تبصرہ برطانوی وزارت داخلہ کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ رواں برس کے آغاز میں ہوئے ایک معاہدے کے تحت کیلے میں دیوار کی تعمیر شروع کر دےگا تاکہ جنگل مہاجر بستی کے پناہ گزینوں کو برطانیہ جانے والے ٹرکوں میں کود کر سوار ہونے سے روکا جا سکے۔

فرانسیسی اور برطانوی حکومتوں کے درمیان یہ معاہدہ کہ برطانیہ جنگل مہاجر کیمپ کے سامنے دیوار تعمیر کرے گا تاکہ ان مہاجرین کو برطانیہ آنے سے روکا جا سکے، رواں برس مارچ میں ہونے والے ایک اجلاس میں طے پایا تھا۔ اس کی تعمیر سے وہ سکیورٹی باڑ مکمل ہو جاتی جو پہلے سے ہی شہر کی بندر گاہ اور انگلش ٹنل کے داخلی مقام پر لگائی گئی ہے۔

Frankreich Calais Jungle Zaun Flüchtinge

دیوارکی تعمیر سے وہ سکیورٹی باڑ مکمل ہو جاتی جو پہلے سے ہی شہر کی بندر گاہ اور انگلش ٹنل کے داخلی مقام پر لگائی گئی ہے

فرانسیسی وزیر داخلہ برنارڈ کازینیوو نے گزشتہ ہفتے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ جنگل کیمپ کو جلد از جلد بند کر دیا جائے گا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بندش مرحلہ وار کی جائے گی۔ فرانس نے خیموں اور عارضی پناہ گاہوں کی اس مہاجر بستی کو بند کرنے کے لیے لگاتار کوششیں کی ہیں۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ نئے آنے والے پناہ گزینوں کے بعد اس مہاجر کیمپ میں سات ہزار تارکین وطن رہائش پذیر ہیں۔ تاہم یہاں کام کرنے والے خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ جنگل میں مہاجرین کی تعداد دس ہزار تک ہے۔ کیلے کی مئیر کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں مہاجر کیمپ کی بندش کا اعلان اور پھر وہاں رہنے والے پناہ گزینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دیوار کی تعمیر کا فیصلہ’ بے ربط اور سمجھ سے باہر‘ ہے۔

DW.COM