1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’جنگلی حیات سے متعلق متنازعہ بھارتی پالیسی ختم‘

بھارتی حکومت نے قبائلیوں کو جنگلی حیات سے مالا مال علاقوں سے نکلانے کی متنازعہ پالیسی ختم کر دی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں، جنہیں نیشنل پارکس قرار دیا گیا تھا۔ اس بات کی تصدیق پیر کو انسانی حقوق کے گروپ سروائول انٹرنیشنل نے کی۔

default

ہفتے کو نئی حکومتی تجویز کا اعلان کیا گیا، جس کے مطابق اہم جنگلی حیات کی نشاندہی اس علاقے میں رہنے والے قبائلیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔

یہ تجویز وفاقی وزارت برائے ماحولیات اور جنگلات کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے۔ وزارت نے ایک ماہ کے اندر اس پر مشورے اور تبصرے طلب کیے ہیں۔

قبل ازیں اکتوبر 2007ء میں اس حوالے سے ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن کے مطابق اہم جنگلی حیات کے علاقوں میں بسے لوگوں کو وہاں سے نکالا جانا تھا۔

سروائول انٹرنیشنل کے مطابق ان علاقوں سے نکالے جانے والے قبائلی اپنی اس زمین اور وسائل سے محروم ہوجاتے ہیں، جن پر وہ نسلوں سے انحصار کرتے آ رہے تھے۔ اس گروپ کے مطابق انہیں اکثر ان کے مقدس مقامات اور قبرستانوں تک بھی رسائی نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

نئی پالیسی کے مسودے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ جنگلی حیات کی موجودگی کے باوجود رہ سکتے ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگلات میں آباد کمیونٹیوں کو پارکس کے انتظامات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

Orang-Utan

اہم جنگلی حیات کی نشاندہی کے عمل میں قبائلیوں کو شامل کیا جائے گا

تاہم شیروں کی بہتات والے علاقوں کو اس مسودے کی تجاویز میں شامل نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ بھارت میں جنگلات کی کٹائی اور دیگر انسانی سرگرمیوں کے باعث جنگلی حیات بالخصوص شیروں کے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری جانب قبائلیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ دنیا کے بعض بہترین محفوظ علاقوں میں قبائلی آباد ہیں۔ سروائول انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر اسٹیفن کوری کا کہنا ہے، ’یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں ہے۔ یہ تجویز پیش کرنا پاگل پن ہے کہ جنگی حیات کے تحفظ کے لیے ان لوگوں کو وہاں سے ہٹانا ہو گا، جو سالوں سے اس کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/ڈی پی اے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس