1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنگجوؤں کا ایک اور حملہ، آٹھ فوجی اور بارہ جنگجو ہلاک

پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان میں جنگجوؤں کے ایک حملے میں آٹھ فوجی اور بارہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان عسکریت پسندوں نے یکدم ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں جھڑپ شروع ہو گئی۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں بارہ جنگجو بھی ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ قریب ڈیڑھ سو مسلح جنگجوؤں نے جمعرات کو علی الصبح جنوبی وزیرستان کے علاقے مارابی میں واقع ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ یہ عسکریت پسند راکٹ لانچروں اور جدید اسلحے سے لیس تھے۔

وانا میں ایک مقامی سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان یہ جھڑپ تین گھنٹے تک جاری رہی،’ اس جھڑپ کے نتیجے میں 8 فوجی اور 12 جنگجو مارے گئے جبکہ پانچ جنگجو زخمی بھی ہوئے‘۔ پشاورمیں بھی ایک سکیورٹی اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس جھڑپ میں 13 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

Pakistan Anschlag USA Drohnenangriff Flash-Galerie

ڈرون حملوں میں اضافے کے ساتھ شدت پسدنوں کے حملوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے

افغانستان کے ساتھ سرحد سے ملحقہ مکین نامی علاقہ، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، وہ کسی زمانے میں تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ پاکستانی فورسز نے 2009ء میں جنوبی وزیرستان میں جب جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تھی تو اس علاقے میں موجود پاکستانی طالبان نے شدید مزاحمت کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں بیت اللہ محسود کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے کئی دیگر اعلٰی رہنما شمالی وزیرستان فرار ہو گئے تھے۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں پاکستانی طالبان افغانستان اور پاکستان میں حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام اسلام آباد حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف زمینی آپریشن شروع کرے۔

امریکی حکام کے بقول شمالی وزیرستان میں محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے جنگجو افغانستان کے ساتھ سرحد پار کر کے وہاں مسلح کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک بھی سرگرم عمل ہے۔ یہ نیٹ ورک افغانستان میں امریکی اہداف پر حملے کرنے میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس