1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’جنک میل‘ کے خلاف امریکی شہروں کی ماحولیاتی مہم

امریکہ میں پانچ بڑے شہروں کی مقامی حکومتوں نے ایک ایسی نئی حکمت عملی شروع کی ہے، جس کے تحت وہاں شہریوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے گھروں تک پہنچنے والی ناپسندیدہ ڈاک کو وصول کرنے سے انکار کر دیں۔

default

حکام کو امید ہے کہ اس طرح نہ صرف تحفظ ماحول کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے گی بلکہ کوڑے کو ٹھکانے لگانے پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی بھی یقینی ہو جائے گی۔ وہ بھی اس طرح کہ غیر ضروری کوڑے کے پیدا ہونے کے عمل کو اس کے شروع ہی میں روک دیا جائے۔

امریکی شہریوں کو ہر سال ڈاک کے ذریعے ملنے والے اشتہارات کی مجموعی تعداد قریب سو بلین بنتی ہے۔ یہ تعداد امریکہ کے US پوسٹل سروس کہلانے والے محکمہء ڈاک کی جاری کردہ ہے۔ اس بارے میں صارفین کے ایک گروپ کیٹیلاگ چوائس کا اندازہ ہے کہ امریکہ میں اتنی بڑی تعداد میں ڈاک کے ذریعے بغیر مانگے بھیجے جانے والے اشتہارات کی چھپائی اور ترسیل پر ہر سال کم از کم ایک بلین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

Symbolbild Müll Recycling

کوڑے کے طور پر پھینکے گئے کاغذ اور پلاسٹک کو علیحدہ علیحدہ ری سائیکل کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے

Catalog Choice نامی گروپ سن2007 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ گروپ اپنے لیے بغیر کسی نفع کے کام کرتا ہے۔ کیٹیلاگ چوائس امریکی صارفین کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ آن لائن جا کر مخصوص کاروباری اور تجارتی اداروں سے رابطہ کر کے انہیں اپنے پتے پر ناپسندیدہ ڈاک اور اشتہارات بھیجنے سے منع کردیں۔

اس گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Chuck Teller کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مجموعی آبادی میں سے قریب ایک فیصد شہری اب یہ عملی فیصلے کرنے لگے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی کمپنی کی ڈاک وصول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

امریکہ میں پانچ شہر ایسے ہیں، جنہوں نے اپنے طور پر کیٹیلاگ چوائس کے ساتھ اشتراک عمل شروع کیا ہے۔ ان میں شکاگو اور کینساس سٹی بھی شامل ہیں۔ ان شہروں میں کیٹیلاگ چوائس کی طرز پر مقامی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔ چک ٹیلر کہتے ہیں کہ آج کے دور میں کیٹیلاگ چوائس کسی نہ کسی حد تک ایسے ہی ہے، جیسے 25 یا 30 سال پہلے کوڑے کو ری سائیکل کرنے کا عمل تھا۔

NO FLASH Deutsche Post baut Dominanz auf Briefmarkt aus

مغربی دنیا میں عام گھروں تک پہنچنے والی ڈاک کا بڑا حصہ غیر ضروری اور اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے

Chuck Teller کے بقول شروع میں کوڑے کی ری سائیکلنگ عوام کی ایک ایسی خدمت تھی، جس کے دوران عام شہری ایک ٹرک لے کر مختلف علاقوں میں جا کر اس میں کوڑا جمع کر لیتے تھے۔ اب لیکن یہی عمل کسی بھی بلدیاتی ادارے کی طرف سے اپنی حدود میں رہنے والے شہریوں کو پیش کی جانے والی ایک لازمی سے سروس ہے۔

کیٹیلاگ چوائس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیلر کے مطابق غیر ضروری ڈاک وصول کرنے سے انکار کے صرف فائدے ہی فائدے ہیں۔ اس لیے کہ اس طرح نہ صرف صارف غیر ضروری اشتہارات سے بچ جاتا ہے، جن کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ کو ٹھکانے لگانا بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف شہری بلدیاتی اداروں کے لیے یہ اس لیے اچھی پیش رفت ہے کہ اس طرح وہ غیر ضروری کوڑے اور اس کو ٹھکانے لگانے پر اٹھنے والے اخراجات سے کافی حد تک بچ سکتے ہیں۔

اس ماحول دوست مہم میں شریک دیگر امریکی شہروں میں کیلی فورنیا کا اپنی یونیورسٹی کی لیے مشہور شہر برکلے، ریاست نیو یارک کا شہر Ithaca اور ریاست اوریگان کا دارالحکومت Salem شامل ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس