1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوب مغربی جرمنی میں ایک ’شامی مہاجر‘ نے چاقو سے ایک خاتون کو ہلاک کر دیا

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے جنوب مغربی جرمن شہر روئٹلنگن میں ایک خاتون کو چاقو کے وار سے ہلاک کر دیا ہے۔ اس شخص کو پولیس گرفتار کر چکی ہے۔

روئٹلنگن میں اتوار کی شام ہوئے اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ جرمنی کے تیسرے بڑے صوبے باڈن ورٹمبرگ میں واقع ہے۔

حملہ آور کے بارے میں جو تفصیلات موصول ہوئی ہیں، ان کے مطابق وہ ایک اکیس سالہ شامی باشندہ تھا، جس نے جرمنی میں پناہ کی درخواست دے رکھی تھی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے۔

بتایا گیا ہے کہ اس شامی مہاجر کا ہلاک ہونے والی خاتون کے ساتھ غالباً کوئی جھگڑا ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ یہ نوجوان کسی اور شخص کو نقصان پہنچاتا، ایک کار ڈرائیور نے اُسے ٹکر مار دی، جس کے فوراً بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر اُس پر قابو پا لیا۔

پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ کارروائی اس شخص نے تن تنہا ہی کی تھی۔ حکام کے مطابق علاقے میں رہنے والے افراد کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ اتوار کے روز کیے جانے والا یہ حملہ دہشت گردانہ کارروائی تھی۔ مزید کہا گیا ہے کہ مار پیٹ کرنے کی وجہ سے مذکورہ شامی مہاجر کا نام پولیس کے پاس پہلے ہی سے موجود تھا۔

یکے بعد دیگرے حملے

یہ ایک ہفتے کے اندر جرمنی میں ہونے والا تیسرا پرتشدد واقعہ ہے۔ جمعے کے روز جنوبی جرمن شہر میونخ میں ایک ایرانی نژاد نوجوان نے ایک شاپنگ مال کے قریب فائرنگ کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ حکام کے مطابق اولمپیا شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور نے انٹرنیٹ کے ذریعے اسلحہ حاصل کیا۔

ایک جرمن نشریاتی ادارے سے بات چیت میں باویریا کے وزیرداخلہ یوآخم ہیرمان نے بتایا کہ ’تاریک ویب‘ کے ذریعے اس نوجوان نے نیم خودکار پستول حاصل کی۔ ہیرمان کا کہنا تھا کہ ایرانی نژاد جرمن حملہ آور نے ایسے حملوں سے متعلق اچھی خاصی ریسرچ کی تھی۔

قبل ازیں ایک افغان مہاجر نے وُرسبرگ میں ایک ٹرین پر کلہاڑی اور چھری سے حملہ کر کے متعدد مسافروں کو زخمی کر دیا تھا۔ شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

پہلے فرانس اور بیلجئم اور اب جرمنی میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد یورپی ممالک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔