1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جنوب مشرقی یورپ میں اب بھی ہزاروں پناہ گزین بےیارومدد گار

جرمن حکام کے مطابق بلقان خطے کا راستہ بند ہونے کے بعد سے ہزاروں پناہ گزین محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ پناہ گزین جنوب مشرقی یورپی ملکوں میں اپنی اگلی منزل کے منتظر ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق رواں برس مہاجرین کی یورپ کی جانب آمد میں کمی یقینی طور پر واقع ہوئی ہے اور اس کی کم از کم دو بنیادی وجوہات بتائی جاتی ہے۔ ان میں ایک رواں برس کے اوائل سے مشرقی یورپ کے بلقان خطے والے ممالک کی جانب سے سرحدوں کی بندش خاردار باڑ لگانا ہے۔ جبکہ دوسری وجہ بحیرہ ایجیئن میں مغربی دفاعی اتحاد کے جنگی بیڑے کا نگرانی کا عمل ہے۔

جرمن ذرائع کے مطابق جب سے یورپ کی جانب مہاجرین کی آمد کا جنوب مشرقی یورپ کا رُوٹ بند ہوا ہے، تب سے اس خطے کے ملکوں میں تقریباً ستتر ہزار پناہ گزین بے یار و مدد گار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان میں باسٹھ ہزار کے قریب صرف یونان میں محصور ہیں۔ ان کے علاوہ پندرہ ہزار ایسے پناہ گزین ہیں جو بحیرہ ایجیئن کے کئی جزائر پر چھپ چھپا کر زندگی کے مشکل روز و شب گزار رہے ہیں۔

Serbien Kelebija Fotoreportage Diego Cupolo an ungarischer Grenze (DW/D. Cupolo)

سربیا میں مقیم تارکین وطن اپنے موجودہ حالات پر پریشان ہیں

ان محصور پناہ گزینوں کے بارے میں ایک رپورٹ جرمن اخبار بلڈ نے حکام کے حوالے سے شائع کی ہے۔ اس اخباری رپورٹ کے مطابق بلقان خطے کی ریاستوں نے راستے ضرور بند کر رکھے ہیں لیکن انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے افراد اب بھی متعدد دیگر راستوں سے ان پناہ گزینوں کو وسطی یورپی ملکوں تک پہنچانے کی کوشش میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

اخبار بلڈ کے مطابق انسانوں کی اسمگلنگ میں کامیابی کے اشارے اس سے ملتے ہیں کہ رواں برس جون میں سربیا میں مقیم پناہ گزینوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ تھی جو اب چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سربیا کی یورپی ریاست بھی بلقان روُٹ پر واقع ہے۔ سربیا کو وسطی یورپ تک پہنچنے والے تارکین وطن کے لیے ایک کلیدی راستہ خیال قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت بھی ہنگری اور کروشیا میں بےشمار پناہ گزین اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کے موقع کی تلاش میں مقیم ہیں۔

بلقان خطے سے آسٹریا تک پہنچنے کے تمام راستے رواں برس فروری سے سخت سکیورٹی کی وجہ سے بند ہو کر ضرور رہ گئے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں سے مہاجرین کی وسطی یورپ تک آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ فروری کے بعد سے پچاس ہزار مہاجرین کسی نہ کسی طرح جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔