1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جنوبی یورپ کو بدلتے موسم کا سامنا

رواں صدی کے اگلے برسوں میں جنوبی یورپ کے بعض مقامات کو شدید موسموں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مختلف شہروں اور قصبوں کو ان حالات میں خشک سالی، شدید بارشیں، زوردار گرمی اور ساحلی علاقوں میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ماحولیات سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ رواں صدی کے وسط میں جنوبی یورپ کے بعض حصوں میں حیران کن موسمی تبدیلیوں کا امکان ہے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے سال میں ایک مرتبہ مختلف علاقے خشک سالی، شدید بارشیں، زوردار گرمی اور ساحلی علاقوں میں سنگین سیلاب یا شدید گرم لُو کا سامنا کر سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں یہ صورت حال ہر ایک صدی میں محض ایک مرتبہ دیکھی جاتی تھی لیکن مزید تین دہائیوں کے بعد ان میں تواتر پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

یہ رپورٹ اٹلی کے صوبے واریسی کے ایک چھوٹے سے قصبے اِسپرا میں قائم یورپی کمیشنز انسٹیٹیوٹ برائے ماحولیاتی استحکام کے موسم پر ریسرچ کرنے والے ماہرین نے مرتب کی ہے۔ اِس ریسرچ رپورٹ کی قیادت اطالوی ریسرچر گیووانی فورزیری نے کی۔ فورزیری یورپی کمیشن کے انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی رپورٹ کے مندرجات عام کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتوں اور مختلف اداروں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی وقت ہے لہذا حکومتوں اور اداروں کو حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دینا چاہیے۔

Wasserfluten am St. Markus Platz in Venedig

شدید بارشوں سے شہر اور قصبے سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہبں

گیووانی فورزیری نے ماحولیاتی تبدیلیوں کا اندازہ زمین کی بلند فضا کے بدلتے درجہٴ حرارت کے تناظر میں لگایا ہے کہ یہ کس طرح آباد حصوں کی قریبی فضائی ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ ان کی رپورٹ کے مطابق تین دہائیوں کے دوران زمینی فضا کے درجہٴ حرارت میں دو سیلسیئس یا 3.6 فارن ہیٹ کا اضافہ سردست یقینی دکھائی دیتا ہے۔ فورزیری کے مطابق یہ اضافہ زمین پر مایوس کن حالات پیدا کرنے کے لیے کافی ہے اور اِس میں رکاوٹ صرف اُسی صورت میں ممکن ہے کہ زمین کے باسی کتنی جلدی سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی لاتے ہیں۔

یورپین جیو سائنسز یونین کی سالانہ جنرل اسمبلی کے موقع پر اطالوی ریسرچر نے اپنی رپورٹ کو پیش کیا ہے۔ یہ کانفرنس آج تیئیس اپریل سے ویانا میں شروع ہو گئی ہے۔ چھ روزہ جنرل اسمبلی اٹھائیس اپریل کو ختم ہو گی۔ اس میں یورپی براعظم کے علاوہ مختلف ملکوں سے وفود شریک ہیں۔ تیرہ ہزار سے زائد سائنسدانوں کا تعلق ایک سو نو ملکوں سے ہے۔ کانفرنس کے دوران نو سو سے زائد موسمیاتی و ارضیاتی سائنسز کے سیشن ترتیب دیے گئے ہیں۔

DW.COM