1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا کے ساتھ جنگ ہو سکتی ہے : شمالی کوریا

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کنلٹن کے دورہء جنوبی کوریا کا مقصد پیانگ یانگ کے جانب سے سیول کا لاحق فوجی خطرات کا تدارک ہے جب کہ شمالی کوریا نےکلنٹن کے اس دورے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حملے کے خطرات کی جانب اشارہ کیا ہے۔

default

شمالی کوریا کا مقامی میڈیا ہلیری کلنٹن کے جنوبی کوریا کے دورے پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے

آج جمعرات کے روز شمالی کوریا نے امریکہ پرالزام عائد کیا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف ایٹمی حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے ۔ چند گھنٹے قبل پیانگ یانگ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا پر حملے کے لئے تیار ہے۔

شمالی کوریا کی خبر رساں ایجنسی KCNA نے اپنے ایک حالیہ تبصرے میں حکومتی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار کی ایک رپورٹ کا کچھ حصہ نقل کیا تھا جس کے مطابق’’ امریکہ مکالمت اور امن کی بات کر رہا ہے مگر دراصل وہ خطے میں فوجی تصادم چاہتا ہے۔‘‘

شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائیل کے تجربات کی تیاریاں جاری ہیں مبصرین خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے ان میزائیل تجربات کا بنیادی مقصد نئی امریکی انتظامیہ کو خطے کی نازک صورت حال سے آگاہ کرنا اور شمالی کوریا کے خلاف جاری پابندیوں میں نرمی پر مجبور کرنا ہے۔ اس سے قبل شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کے خاتمے کا اعلان کر رکھا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں کہا تھا کہ ’’شمالی کوریا کو میزائیل تجربے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اپنے پہلے بیرون ملکی دورے پر سب سے پہلے جاپان پہلنچی تھیں۔ اس کے بعد وہ سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا گئیں۔ ان کے اس پہلے ایشیائی دورے کی اگلی منزل جنوبی کوریا ہے۔ اس کے بعد وہ چین بھی جائیں گی۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائیل تجربات کی صورت میں شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی۔ شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری نہ روکنے کے باعث جنوبی کوریا نے اس پر پہلے ہی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات