1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا کا بحری جہاز شمالی کوریا نے تباہ کیا: آزاد تحقیقاتی کمیشن

بین الاقوامی غیر جانبدانہ تحقیقاتی کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی کوریا کا جنگی بحری جہاز محض ایک حادثہ کی وجہ سے نہیں ڈوبا تھا بلکہ اسے شمالی کوریا نے دانستہ طور پرتباہ کیا تھا۔

default

جنوبی کوریا کا تباہ ہونے والا بحری جہاز

تین سو فٹ لمبا Cheonan نامی یہ بحری جہاز چھبیس مارچ کو ایک دھماکہ ہونے کے بعد Baengnyeongجزائر کے متنازعہ جنوبی ساحل میں ڈوب گیا تھا۔ اس جہاز پر کل ایک سو چار افراد سوار تھے، جن میں سےاٹھاون افراد کو بچا لیا گیا تھا جبکہ چھیالیس ہلاک ہوگئے تھے۔

اس غیر جانبدرانہ رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی عالمی برداری نے شمالی کوریا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے فوری طور پر مذمتی بیانات جاری کئے ہیں۔ شمالی کوریا کے حمایتی چین نے دونوں ممالک کو برداشت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تو کہا ہےلیکن دیگر ممالک کی طرح اس حملے کی مذمت نہیں کی۔

آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بحری جہاز کو ایک زیر زمین بم کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بم کے حصے سمندر کی سطح پر موجود ہیں اور ان حصوں کا مشاہدہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بم شمالی کوریائی ساخت کا تھا۔

پیونگ یانگ نے تمام تر الزامات رد کر دئے ہیں اور کہا ہے کہ اگر اس حادثے کو بنیاد بنا کر کوئی ردعمل ظاہر کیا گیا تو وہ جنگ کے لئے تیار ہے۔

Korea Kriegsschiff FLASH

بحری جہاز Cheonan تباہ ہونے کے بعد

امریکہ نے اس بحری جہاز کے تباہ کرنے کے عمل کو علاقائی امن تباہ کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے۔ اُس کے بقول یہ ایک ’جارحانہ عمل‘ کا مظاہرہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے اس حادثے پر جنوبی کوریا کے عوام اور حکام سے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے اور وہ اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اس رپورٹ کو ’تشویش‘ کا باعث قرار دیا ہے۔

دریں اثناء شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ پیونگ یانگ اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے اپنے معائنہ کار جنوبی کوریا روانہ کرے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ حکومت کویہ رپورٹ موصول ہو چکی ہے تاہم وہ اس حوالے سے خود بھی جانچ پڑتال کرے گی۔

جنوبی کوریا کے بحری جنگی جہاز کے تباہ ہونے کی وجوہات جاننے کے لئے قائم کئے جانے والے آزادانہ تحقیقاتی کمیشن میں برطانیہ ، امریکہ ، سویڈن اور آسٹریلیا کے سفارت کار شامل تھے۔

خیال رہے کہ شمالی ا ور جنوبی کوریا کے مابین سمندری حدود پر تنازعات پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان متعدد بارسمندری جھڑپیں بھی ہوئیں ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM