1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں لگادیں

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے اپنے بحری جہاز کو تباہ کرنے اور اس میں سوار عملے کے چھیالیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

default

جنوبی کوریائی صدر لی میونگ باک

اس ضمن میں سیول حکومت نے کچھ اقدامات کا اعلان بھی کردیا ہے۔ حال ہی میں انکشاف ہوا تھا کہ چھبیس مارچ کو جنوبی کوریا کا جو بحری جہاز اچانک دو ٹکڑے ہوکر ڈوب گیا تھا، دراصل اسے شمالی کوریا کی ایک سب میرین سے داغے گئے تارپیڈو نے نشانہ بنایا تھا۔

اگرچہ مخالف ملک کی جانب سے بحری جہاز کو چھیالیس اہلکاروں سمیت تباہ کردینا ایک بہت بڑا واقعہ ہے مگر جنوبی کوریا نے اس کا جواب اقتصادی پابندیوں اور دیگر سٹریٹیجک اقدامات سے دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک خطاب میں جنوبی کوریائی صدر لی میونگ باک نے کہا کہ سیول نے شمالی کوریا کے جارحانہ روئے کو بہت برداشت کرلیا ہے۔

Korea Kriegsschiff FLASH

تباہ شدہ بحری جہاز

انہوں نے شمالی کوریا کو مستقبل میں ایسے کسی واقعے کا عسکری جواب دینے کی دھمکی دی۔ جنوبی کوریائی صدر بحری جہاز کو مبینہ طور پر تارپیڈو مارے جانے کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جانے کی بھی بات کرچکے ہیں۔

دوسری طرف کمیونسٹ کوریا نے بھی جواباً سنگین نتائج سے اپنے دیرینہ حریف کو خبردار کیا ہے۔ پیانگ یانگ کا مؤقف ہے کہ جن شواہد کو بنیاد بنا کر اس پر الزام عائد کیا جارہا ہے وہ غلط ہیں۔

امریکہ اور جاپان نے جنوبی کوریا کی ہم نوائی کی ہے جبکہ چین نے افہام و تفہیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی انتظامیہ کو شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کے از سر نو جائزے کی ہدایت کردی ہے۔ اوباما نے جزیرہ نما کوریا میں موجود اپنی افواج کو بھی کسی ناخوشگوار حالت سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا کہا ہے۔ امریکی وزیر خاجہ ہلیری کلنٹن نے شمالی کوریا پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ محاذ آرائی کا سلسلہ روکے اور اپنے ایٹمی پروگرام کی بندش سے متعلق کئے گئے وعدوں پر عمل کرے۔

عالمی سیاست میں شمالی کوریا کے حامی تصور کئے جانے والے ملک چین نے زور دیا ہے کہ کسی بھی اہم بین الاقوامی تنازعہ کی طرح اس تنازعے کو بھی مکمل شفافیت سے پرکھا جائے۔

حالیہ اقدامات کے تحت سیول نے پیانگ یانگ سے تجارت منقطع کردی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین سالانہ تجارت کا تخمینہ تین سو ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے، جس میں سمندری اور زرعی اجناس سرفہرست ہیں۔

اس پابندی کا اثر Kaesong کے صنعتی علاقے پر نہیں ہوگا جہاں جنوب کوریائی کمپنیاں شمالی کوریا کی سستی افرادی قوت سے مختلف اشیاء کی پیداوار کا کام لیتی ہے۔ اس صنعتی علاقے کو دونوں ممالک کے بیچ اقتصادی تعاون کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ شمالی کوریا کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی روک دی گئی ہے تاہم بچوں سے متعلق امداد جاری رکھی جائے گی۔

Kim Jong Il Machthaber Nord Korea

شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ال ملکی فوجی عہدیداروں کے ہمراہ ۔فائل فوٹو

عسکری محاذ پر سیول نے پیانگ یانگ مخالف پراپیگنڈے کا سلسلہ بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس مقصد کے لئے سرحدی علاقے میں لاؤڈ سپیکرز لگائے جائیں گے۔ جنوبی کوریا کی فوج، امریکی افواج کے ساتھ مل کر جزیرہ نما میں مشترکہ بحری مشقوں کا بھی آغاز کریں گی۔

شمالی کوریا پہلے ہی جوہری اور میزائل تجربے کی وجہ سے متعدد پابندیوں کی زد میں ہے۔ پیانگ یانگ کی منافع بخش اسلحہ سازی کی صنعت کو ان پابندیوں کے ذریعے نشانا بنایا گیا ہے۔ پابندیوں نے کمیونسٹ کوریا کی معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا ہے۔

سیاسی و عسکری امور کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ خطے میں آئندہ چند مہینوں تک کشیدگی ضرور رہے گی مگر کسی بڑے تنازعے کی امکانات بہت ہی کم ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM