1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا میں پہلی خاتون صدر کے انتخاب کا امکان

جدید کوریا کے بانی کی بیٹی Park Geun-hye سن 2012ء میں ہونے والی صدارتی الیکشن میں موجودہ صدر Lee Myung-bak کے مدمقابل امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کے لیے مضبوط فریق کی حیثیتت میں سامنے آ رہی ہیں۔

default

صدر Lee Myung-bak

جنوبی کوریا میں اگلا صدراتی انتخاب 2012ء میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نامزدگیاں حاصل کرنے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

سن 2008ء میں منعقد صدارتی نامزدگی کے سلسلےمیں Lee کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد سے پارک نےبراہ راست لی کی پالیسیوں پر اب تک تنقید نہیں کی تھی تاکہ حکمراں جماعت گرینڈ نیشنل پارٹی کے قانون سازوں کی حمایت حاصل رہے ۔ تاہم اپنے حالیہ بیان میں پارک نے صدر Lee کی پالسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے کوچیلنج کیا ہے۔

پارک نے اپنے ایک حالیہ بیان میں صدر لی پر علاقائی ایئر پورٹ سے دست بردار ہونے اور صدر لی کے قریبی رفیق اور ملک کے مرکزی بینک کے گورنر پر افراط زر کی روک تھام میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ کی۔

Südkoreaner wählen neues Parlament, Lee Myung Bak

جنوبی کوریائی صدر کی پالیسیوں کے خلاف سوال اٹھائے جا رہے ہیں

جنوبی کوریا کی Sejong University میں سیاسی امور کے ماہر لی نام ینگ کہتے ہیں کہ پارک نے ہمیشہ وعدوں کی پاسداری کی اہمیت اور سیاست میں ساکھ کی بنیادی حیثیت پر بات کی ہےاور اب وہ صدر کے اقدامات کوایک ممکنہ رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔"

آج کل حکمراں جماعت کی نظریں اس ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج پر لگی ہوئی ہیں جس کا نتیجہ یہ ظاہر کر سکے گا کہ صدر لی اگلی نامزدگی کے لیے کتنے مضبوط امیدوار ہیں۔ اگر لی ان میں ناکام ہوتے ہیں تو پارک کھل کر لی کی مخالفت کر سکیں گی۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس وقت پارک کو پارلیمنٹ کی 296 نشستوں میں سے 171 نشستوں پر براجمان اپنی جماعت کے ایک تہائی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ باقی دو تہائی یا تو لی کے حامی ہیں یا پھر غیر جانب دار ہیں جو شاید کسی دوسرے مضبوط متبادل کی غیر موجودگی میں پارک کی مخالفت نہیں کریں گے۔

ایک حالیہ سروے میں 59 سالہ پارک کو 42 فیصد حمایت حاصل ہے۔اگر صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر وہ ملک کی صدر بننے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM